اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 228
228 فماَ رَحْمَةٍ مِّنَ اللهِ لِنْتَ لَهُمْ وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْلَهُمْ وَشَاوِرُهُمْ فِي الْأَمْرِ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ اِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُتَوَعِلِينَ ( آل عمران ۱۶۰) یعنی اور تو اس عظیم الشان رحمت کی وجہ سے (ہی ) جو اللہ کی طرف سے ( تجھے دی گئی ) ہے ان کے لئے نرم واقع ہوا ہے اور اگر تو بد اخلاق اور سخت دل ہوتا تو یہ لوگ تیرے گردے تنثر بشر ہو جاتے پس تو انہیں معاف کر دے اور ان کے لئے (خدا سے) بخشش مانگ اور حکومت ( کے معاملات ) میں ان سے مشورہ (لیا) کر پھر جب تو ( کسی بات کا) پختہ ارادہ کرلے تو اللہ پر توکل کر۔اللہ تو کل کرنے والوں سے یقیناً محبت کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بھی یہ بات بیان فرمائی ہے کہ اسے محمد علی لوگوں کی خاطر تیرے دل میں جو نرمی پائی جاتی ہے وہ اس لئے ہے کہ ہم نے تجھے عظیم الشان رحمت سے نوازا ہے۔اگر یہ لوگ کوئی غلطی بھی کریں تب بھی تو انہیں معاف کر دے نہ صرف معاف کر بلکہ اللہ تعالیٰ سے ان لوگوں کے لئے بخشش بھی طلب کر۔پس یہی وجہ ہے کہ آپ صل علیم نے اپنے اشد ترین دشمنوں کو بھی معاف کیا اور ان کے ساتھ نرمی کا سلوک فرما یا اور ان لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ سے مغفرت اور بخشش کی دعا بھی کی۔ان آیت سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اللہ کی طرف سے عطا کی گئی رحمت کے ہر فرد بشر کے لئے عام تھی بلکہ اللہ ک مخلوق میں سے کوئی بھی اس رحمت سے محروم نہ تھا۔پس آپ کی رحمت و شفقت کا پہلو ہمیں ہر جگہ پھیلا ہوا صاف دکھائی دیتا ہے۔پس جب ہم ان واقعات پر غور کریں گے جو سزاؤں سے تعلق رکھتے ہیں وہاں ہمیں آنحضور علی ایم کے اس رحمت کے پہلو کو بھی ضرور مد نظر رکھنا ہوگا۔اور اس بات پر عمیق نظر سے غور کرنا ہو گا کہ آنحضور عالم نے جن لوگوں کے بارے میں سخت فیصلہ لیتے ہوئے انہیں قتل