اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 227
227 وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ (الانبیا آیت (۱۰۸) یعنی اور (اے نبی ) ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لئے رحمت ( بنا کر ) بھیجا ہے اس بات میں کیا شک ہے کہ واقعی آپ تمام جہانوں کے لئے رحمت تھے بنی نوع انسان سے لے کر چرند پرند تک بھی آپ کی رحمت سے مستفید ہوئے۔آپ کی رحمت کے پہلو کو دیکھتے ہوئے یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ آپ نے کسی دشمن پر بھی ایسی تحقیق کی ہو جس میں رحمت کا پہلو نہ پایا جاتا ہو۔اسی طرح اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُوفٌ رَّحِيمٌ (اتو به ۱۲۸) یعنی (اے لوگو ) تمہارے پاس تمہاری ہی قوم میں سے ایک فردرسول ہو کر آیا ہے۔تمہارا تکلیف میں پڑنا اس پر شاق گزرتا ہے اور وہ تمہارے لئے خیر کا بہت بھوکا ہے اور مومنوں کے ساتھ محبت کرنے ولا ( اور ) بہت کرم کرنے والا ہے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے عام لوگوں کو خطاب فرمایا ہے اور یہ فرمایا ہے کہ یہ وہ رسول ہے کہ جب تم میں سے کسی کو بھی کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اس کو بہت شاق گزرتا ہے کیونکہ سیدرسول کسی کا بھی تکلیف میں پڑا ہونا پسند نہیں کرتا اور ہمیشہ ہی یہ تمہارے لئے خیر چاہنے والا ہے۔اور ساتھ ہی یہ بات بھی بیان فرما دی کہ جہاں تک اس کو مومنوں سے تعلق کی بات ہے تو یہ رسول مومنوں سے بہت محبت کرنے والا ہے۔رسول کریم علیم کی سیرت پر غور کرنے سے ہر معاملہ میں یہ پہلو بھی نمایاں دکھائی دیتا ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ ایک اور مقام پر فرماتا ہے۔