اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 219
219 اور راوی لوگ اپنی روایات کو دوسروں تک پہنچاتے اپنی تحریری یاداشتوں سے کثرت کے ساتھ مدد لینے لگ گئے تھے لیکن چونکہ محض کسی تحریر یا یاداشت کا موجود ہونا اسے قابل سند نہیں بنا سکتا جب تک کہ اس کی تائید میں معتبر زبانی تصدیق بھی موجود نہ ہو اور اس لئے آج تک ہر مہذب ملک کی عدالتوں میں ہر دستاویز کی تصدیق کے لئے زبانی شہادت ضروری قرار دی جاتی ہے اس لئے بالعموم محدثین نے زبانی اور تحریری روایات کے امتیاز کو اپنے مجموعوں میں ظاہر نہیں کیا۔لیکن اس میں ہر گز کسی شبہ کی گنجائش نہیں کہ اب جو احادیث کے مجموعے ہمارے سامنے ہیں ان سب میں ایک معتد بہ حصہ ایسی روایات کا شامل ہے جو زبانی انتقال کے ساتھ ساتھ تحریری طور پر بھی ایک راوی سے دوسرے راوی تک منتقل ہوتی ہوئی نیچے اتری ہیں۔اس دعویٰ کی تصدیق میں ہم اس جگہ اختصار کی غرض سے صرف صحابہ کے زمانہ کی چند مثالیں درج کریں گے کیونکہ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ خود صحابہ میں ایسے لوگ موجود تھے جو آنحضرت علیم کی احادیث اور روایات کو لکھ کر محفوظ کر لیا کرتے تھے اور پھر اسی مجموعہ سے آگےسلسلہ روایات چلاتے تھے تو یہ ایک قطعی ثبوت اس بات کا ہوگا کہ یہ طریق بعد کے زمانہ میں ( جبکہ فن تحریر بہت زیادہ وسیع ہو گیا اور روایات کے لکھنے کے لئے ہر قسم کی سہولت میسر آ گئی ) بدرجہ اولی جاری رہا۔سب سے پہلی اور اصولی حدیث ہم اس معاملہ میں وہ درج کرنا چاہتے ہیں جن میں خود آنحضرت علیم نے یہ تحریک فرمائی ہے کہ جس شخص کو میری باتیں یاد نہ رہتی ہوں اسے چاہئے کہ انہیں لکھ کر محفوظ کرلیا کرے، چنانچہتر مندی میں پیروایت آتی ہے کہ عن أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يَجْلِسُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَسْمَعُ مِنَ النَّبِيِّ الْحَدِيثَ وَلَا يَحْفَظُهُ فَشَكَا ذَالِكَ إِلَى النَّبِيِّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ اسْتَعِنْ بِيَمِنِيكَ وَأَوْمَاءَ بِيَدِهِ للفظ ( ترمذی ابواب العلم