اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 220
220 باب ما جاء فی الرخصتہ فیہ) یعنی ابوھریرہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک انصاری آنحضرت علی ایم کے پاس آیا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ میں آپ کی باتیں سنتا ہوں مگر مجھے وہ یاد نہیں رہتیں۔آپ نے فرمایا تم اپنے دائیں ہاتھ کی مددحاصل کر کے میری باتوں کو لکھ لیا کرو“ اس حدیث سے ہمیں یہ علم حاصل ہوتا ہے کہ بعض صورتوں میں آنحضرت علایم خود تحریک فرمایا کرتے تھے کہ جس شخص کو میری باتیں یاد نہ رہتی ہوں وہ انہیں لکھ کر محفوظ کر لیا کرے اور آپ کے اس فرمان کے ہوتے ہوئے اگر ہمیں تاریخ میں صراحت کے ساتھ یہ ذکر نظر یہ بھی آئے کہ فلاں فلاں صحابی حدیثیں لکھ لیا کرتے تھے تو بھی قیاس یہی ہوگا کہ بعض صحابی ضرور حدیثیں لکھا کرتے تھے ، کیونکہ یہ ممکن نہیں ہو سکتا کہ آنحضرت علی کی اس ہدایت سے صحابہ جیسی جماعت میں سے کسی فرد نے بھی فائدہ نہ اٹھایا ہو در بہر حال جس صحابی کو آپ نے بر اور است مخاطب کر کے یہ الفاظ فرمائے تھے اُس نے تو ضرور اس ارشاد کی تعمیل کی ہوگی۔مگر یہ صرف قیاس ہی نہیں ہے بلکہ حدیث میں صراحت کے ساتھ یہ ذکر آتا ہے کہ بعض صحابی آنحضرت علم کی حدیثیں لکھ لیا کرتے تھے ، چنانچہ روایت آتی ہے کہ عبد اللہ بن عمرو بن العاص آنحضرت علیم کی زبان مبارک سے جو سنتے تھے وہ لکھ لیا کرتے تھے۔اس پر بعض لوگوں نے انہیں منع کیا کہ آنحضرت علیم کبھی خوش ہوتے ہیں اور کبھی غصہ میں ہوتے ہیں تم سب کچھ لکھتے جاتے ہو۔عبداللہ بن عمرو نے اس پر لکھنا چھوڑ دیا، لیکن جب آنحضرت علیکم تک یہ خبر پہنچی تو آپ نے فرمایا أكْتُبْ فَوَ الَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا يَخْرُجُ مِنْهُ إِلَّا الْحَقُ (ابوداؤد کتاب العلم باب كتابة العلم)