اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 218
218 جاتا، کیونکہ اس صورت میں ان میں سے کوئی مصنف کسی بات کو اور کوئی کسی کو اپنی درایت کے خلاف پا کر ترک کردیتا، حالانکہ بالکل ممکن ہے کہ وہ صحیح درایت کے خلاف نہ ہوئیں، چنانچہ ہم عملاً دیکھتے ہیں کہ کئی باتیں جو گزشتہ زمانوں میں سمجھ نہیں آتی تھیں آج ان کا سمجھنا آسان ہورہا ہے۔پس پختہ اور صحیح اصول و ہی تھا جو ابتدائی مسلمان مصنفین نے اختیار کیا کہ انہوں نے اصل بنیاد روایت کے اصول پر رکھی مگر روایت کی مدد کے لئے ایک حد تک درایت کو بھی کام میں لاتے رہے۔اور اس طرح انہوں نے اپنے پیچھے آنے والوں کے لئے ایک عمدہ ذخیرہ روایات کا جمع کر دیا۔اور اب یہ ہم لوگوں کا کام ہے کہ روایت و درایت کے اصول کے مطابق اس ذخیرہ کی چھان بین کر کے صحیح کو سقیم سے جُدا کر لیں۔روایت کا قلمبند ہونا گو اصول روایات کے لحاظ سے کسی روایت کا لکھا ہوا ہونا ضروری نہیں ہے اور اسلامی روایات میں ایک بڑا حصہ ایسی روایتوں کا شامل ہے جو کم از کم ابتداء میں صرف زبانی طور پر سینہ بہ سینہ مروی ہوئی ہیں لیکن دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ابتدائے اسلام سے ہی بعض راویوں کا یہ طریق رہا ہے کہ جو حدیث بھی وہ سنتے تھے یا جو روایت بھی ان تک پہنچتی تھی اسے وہ فوراً لکھ کر محفوظ کر لیتے تھے اور جب کسی کو آگے روایت سناتے تھے تو اس لکھی ہوئی یاداشت سے پڑھ کر سناتے تھے۔جس سے ان روایات کو مزید مضبوطی حاصل ہو جاتی تھی۔اس قسم کے لوگ صحابہ کرام میں بھی پائے جاتے تھے اور بعد میں بھی۔بلکہ بعد میں جوں جوں علم ترقی کرتا گیا اور فن تحریر زیادہ پھیلتا گیا ، ان لوگوں کی تعداد زیادہ ہوتی گئی۔حتی کہ اس زمانہ میں آکر جبکہ روایات کتابی صورت میں جمع ہونے لگیں اور موجودہ کتب حدیث وغیرہ کے مجموعے عالم وجود میں آنے شروع ہوئے جس کا آغا ز دوسری صدی ہجری سے سمجھا جاسکتا ہے روایات کو لکھ کر محفوظ کر لینے کاطریق عام طور پر رائج ہو چکا تھا