اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 213 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 213

213 اس روایت میں ابو ہریرہ کو غلط فہمی ہوئی ہے یا آپ کا ارشاد بعض خاص قسم کے حالات کے متعلق ہوگا جسے ابو ہریرہ نے عام سمجھ کر اسے وسعت دے لی۔بہر حال باوجود اس کے کہ اصول روایت کے لحاظ سے یہ حدیث بالکل صحیح قرار پاتی ہے ،مسلمان محققین نے درایت کی بنا پر اسے صحیح تسلیم نہیں کیا۔اور جب ابوہریرہ جیسے کہنہ مشق راوی کی روایت درایت کی جرح سے محفوظ نہیں سمجھی گئی تو میور صاحب کے اس قول کی حقیقت ظاہر ہے کہ مسلمان صرف روایتی پہلو کو دیکھ کر ہر بات کو صحیح مان لیا کرتے تھے اور درایت کو کام میں نہیں لاتے تھے۔پھر ایک اور حدیث میں آتا ہے عَن أبي إسحق قَالَ كُنتُ مَعَ الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ فَخَدَّكَ الشَّعْبِي عَنْ حَدِيثِ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّعَم لَمْ يَجْعَلْ لَهَا سُكُنَى وَلَا نَفَقَةٌ فَأَخَذَ الْأَسْوَدُ مِنْ حَصَى فَحَصِبَهُ بِهِ فَقَالَ وَيْلَكَ تُحَدِّثُ يَمَثْلِ هَذَا وَقَالَ عُمَرُ لَا نَتْرُكَ كِتَابَ اللهِ وَسُنَّةَ نَبِيَّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم بِقَوْلِ امرأة لا تنيني حفظت أو نسيت (مسلم کتاب الطلاق باب المطلقه ثلاث ألا نفقة لها ) یعنی۔ابو اسحق سے روایت ہے کہ ایک دفعہ میں ایک مجلس میں اسود بن یزید کے ساتھ بیٹھا تھا کہ شعبی نے یہ روایت بیان کی کہ فاطمہ بنت قیس صحابیہ بیان کرتی ہے کہ جب اس کے خاوند نے اسے طلاق دیدی تو آنحضرت علی نعیم نے اسے مکان اور خرچ نہیں دلایا۔اس پر اسود نے ایک کنکروں کی مٹھی اٹھا کر شعبی کو ماری اور کہا کیا تم یہ حدیث بیان کرتے ہو حالانکہ حضرت عمر کے سامنے جب یہ حدیث بیان کی گئی تو انہوں نے فرمایا ہم ایک عورت کے بیان پر قرآن اور