اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 214
214 سنت رسول کو نہیں چھوڑ سکتے کیونکہ نہیں معلوم کہ اصل بات کیا تھی اور اس نے کیا سمجھایا اصل بات کیا تھی اور اسے کیا یا درہا۔اس حدیث میں گویا حضرت عمر خلیفہ ثانی ایک صحابیہ کی روایت کو اس بنا پر رد کرتے ہیں کہ وہ ان کی رائے میں قرآنی تعلیم اور سنت رسول کے خلاف ہے اور اس کی توجیہ یہ کرتے ہیں کہ آنحضرت بلال سلیم نے جو کچھ فرمایا ہوگا اُسے یا تو وہ سمجھی نہیں ہوگی یا بعد میں بھول گئی ہوگی۔بہر حال حضرت عمر نے روایت کی بنا پر ایک روایتی لحاظ سے صحیح حدیث کورڈ کر دیا اور جمہور اسلام کا ہی فتویٰ ہے کہ فاطمہ کی روایت غلط تھی اور حضرت عمر کا خیال درست ہے۔پھر ایک اور حدیث میں آتا ہے ؟ عَن مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ أَنَّهُ سَمِعَ عُتبان بن مَالِكِ الأَنْصَارِقَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ أَنَّ اللهَ قَدْ حَرَّمَ عَلَى النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ يَبْتَغِي بذالك وجه اللهِ قَالَ مَحْمُودُ فَحَدَّ ثُهَا قَوْماً فِيهِمْ أَبُو أَيُّوبَ صَاحِبُ رَسُولِ اللهِ صَلَّعَمَ فَأَنْكَرَهَا عَلَى أَبُو أَيُّوبَ وَقَالَ وَاللهِ مَا أَظُنُّ رَسُولَ اللهِ ﷺ قَالَ مَا قُلْتُ قَط ( بخاری باب صلوة النوافل جماعة) یعنی محمود بن الربیع روایت کرتے ہیں کہ میں نے عتبان بن مالک سے یہ سنا کہ رسول اللہ الا اللہ فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر اس شخص پر دوزخ کی آگ حرام کر دی ہے جو سچی نیت سے اللہ کی رضا کی خاطر لا الہ الا اللہ کا اقرار کرتا ہے لیکن جب میں نے یہ روایت ایک ایسی مجلس میں بیان کی جس میں ابو ایوب انصاری بھی موجود تھے تو ابو ایوب نے اس روایت سے انکار کیا اور کہا کہ خدا کی قسم میں ہر گز نہیں خیال کر سکتا کہ رسول اللہ علیم نے یہ بات فرمائی ہو۔“