اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 212
212 فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاس يَا أَبَا هُرَيْرَةَ انْتَوَضَّاءُ مِنَ الدُّهْنِ انتَوَفَّاءُ مِن الحَمِيمِ۔۔۔۔فَقَالَ أَبُو عِيسَى وَاَكْثَرُ اَهْلِ الْعِلْمِ عَلَى تَرْكِ الْوُضُوءِ ( ترمذی کتاب الطهارة بابمَا غَيَّرَتِ النَّارِ ) د یعنی ایک مجلس میں ابوھریرہ نے بیان کیا کہ آنحضرت سلیم فرماتے تھے کہ جس چیز کو آگ نے چھو ہو اس کے استعمال سے وضوء ضروری ہو جاتا ہے۔اس پر ابن عباس نے ابو ہریرہ کوٹوک کر کہا کہ کیا پھر ہم گھی یا تیل کے استعمال کے بعد وضو کیا کریں۔اور کیا ہم گرم پانی کے استعمال کے بعد بھی وضو کیا کریں؟ یہ روایت درج کرکے ترمذی علیہ رحمتہ عرض کرتے ہیں کہ مسلمانوں میں سے اکثر علماء کا اسی پر عمل ہے کہ آگ پر تیار کی ہوئی چیز کے استعمال سے وضوضروری نہیں ہو جاتا۔اس حدیث سے پتہ لگتا ہے کہ حضرت ابوہریرہ تک کی روایت کوجن کی روایات کی تعداد سارے صحابہ سے زیادہ ہے حضرت ابن عباس نے اس عقلی دلیل سے رد کر دیا کہ اول تو محض آگ پر کسی چیز کا تیار ہونا اس بات سے کوئی جوڑ نہیں رکھتا کہ اس کے استعمال سے وضوضروری ہو جائے۔دوسرے یہ کہ جب دین کی بناء کیسر اور آسانی پر ہے تو آنحضرت علیم کی طرف یہ قول کس طرح منسوب ہو سکتا ہے کہ بس جس چیز کو بھی آگ چھو جائے اس سے وضو واجب ہو جاتا ہے اور اسی لئے باوجود حضرت ابو ہریرہ کی اس صریح حدیث کے اکثر ائمہ حدیث وفقہ کا یہی مذہب ہے کہ آگ والی چیز کے استعمال سے وضو واجب نہیں ہوتا۔اور بعض دوسری حدیثوں سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔اور اس کا یہ مطلب نہیں کہ نعوذ باللہ حضرت ابن عباس یا بعد کے ائمہ حدیث کے نزدیک ابوہریرہ نے جو روایت بیان کی ہے وہ آنحضرت علیم کا ارشادتو ہے، مگر قابل عمل نہیں۔بلکہ مطلب یہ ہے کہ ابن عباس اور دوسرے محققین کے نزدیک