اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 208 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 208

208 روایت زیادہ مضبوط قرار دی جائے گی۔درایت کے اصول کی ماتحت مندرجہ ذیل امور زیادہ قابل لحاظ سمجھے گئے ہیں۔(۱) روایت کسی معتبر اور مستند عصری ریکارڈ کے خلاف نہ ہو۔اس اصل کے ماتحت ہر درایت جو قرآن شریف کے خلاف ہے قابل رد ہوگی۔(۲) کسی مسلمہ اور ثابت شدہ حقیقت کے خلاف نہ ہو۔(۳) کسی دوسری مضبوط تر روایت کے خلاف نہ ہو۔(۴) کسی ایسے واقعہ کے متعلق یہ ہو کہ اگر وہ صحیح ہے تو اس کے دیکھنے یا سنے والوں کی تعداد یقینا زیادہ ہونی چاہئے لیکن پھر بھی اس کا راوی ایک ہی ہو۔(۵) روایت میں کوئی ایسی بات نہ ہو جو اسے عقلاً یقینی طور پر غلط یا مشتبہ قرار دیتی ہو۔درایت کے متعلق بعض ابتدائی مثالیں یہ وہ اصول ہیں جو مسلمان محقیقن نے اپنی روایات کی چھان بین کے لئے آغا ز اسلام میں مقرر کئے اور انہیں کے مطابق وہ اپنی روایات کی تحقیق و تدقیق کرتے رہے ہیں۔اور ہر عقل مند سمجھ سکتا ہے کہ روایات کی پڑتال کے لئے ان سے بڑھ کر کوئی کسوٹی نہیں ہوسکتی۔ہمارا یہ دعویٰ نہیں ہے کہ یہ ساری باتیں لازماً ہر مسلمان محدث یا مؤرخ کے پیش نظر رہی ہیں۔مگر اس میں قطعاً کوئی شبہ نہیں ہو سکتا کہ یہ وہ اصول ہیں جو مسلمان محققین نے ابتدائے اسلام میں اپنی روایات کی تحقیق کے لئے وضع کئے اور جنہیں وہ بالعموم اپنی تصانیف میں ملحوظ رکھتے رہے ہیں۔یہ ممکن ہے کہ ذاتی میلان کی وجہ سے ایک محقق کسی بات کو زیادہ وزن دیتا ہو اور دوسرا کسی اور کو یا کوئی مصنف اپنے مجموعہ کو زیادہ جامع بنانے کے لئے یا بعض روایات کی امکانی صحت