اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 209 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 209

209 کے خیال سے کمز ور روایتوں کو بھی لے لیتا ہو یا کوئی مصنف ایسے ہی غیر محتاط ہو، کیونکہ کسی طبقہ کے سب لوگ ایک درجہ کے نہیں ہوتے مگر بہر حال روایت و درایت دونوں کے اصول کو ابتدائی مسلمانوں نے بالعموم اپنے مد نظر رکھا ہے اور زیادہ محتاط مصنفین پوری سختی کے ساتھ ان پر کار بند ر ہے ہیں۔روایت کے اصول کے متعلق تو ہمیں مثالیں دینے کی ضرورت نہیں ، کیونکہ اسلامی تحقیق کا یہ پہلود دوست و دشمن سب کے نزدیک مسلم ہے، البتہ چونکہ بعض عربی متقین نے جن میں سر ولیم میور بھی شامل ہیں اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ مسلمانوں نے درایت کے پہلو کو مدنظر نہیں رکھا اور صرف روایت کے اصول کے ماتحت اپنی روایتوں کی پڑتال کرتے رہے ہیں۔(لائف آف محمد مصنفہ سر ولیم میور دیباچہ xxx) اس لئے درایت کے پہلو کے متعلق اس جگہ بعض مثالیں درج کی جاتی ہیں تاکہ ناظرین کو اس بات کا اندازہ کرنے کا موقعہ ملے کہ یہ اعتراض کس قدر غلط اور بے بنیاد ہے۔سب سے پہلے خود قرآن شریف اس بات کو پیش کرتا ہے کہ محض روایت پر بنیا درکھنا ہر صورت میں کافی نہیں بلکہ کسی خبر کو صحیح سمجھنے سے پہلے ضروری ہے کہ اس کے تمام پہلوؤں کے متعلق اچھی طرح تحقیق کر لی جائے چنانچہ فرماتا ہے۔إن جَاءَ كُمْ فَاسِقٌ بِنَيَا فَتَبَيَّنُوا (الجرات آیت ۷) یعنی اگر تمہارے پاس کوئی خبر پہنچ تو یہ دیکھ لیا کرو کہ خبرلانے والا کیسا آدمی ہے۔پھر اگر یہ راوی قابل اعتماد نہ ہو تو اچھی طرح سارے پہلوؤں پر نظر ڈال کر سوچ لیا کرو۔اس آیت سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ صرف روایت کی صحت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے مگر غور کرنے سے یہ بات مخفی نہیں رہتی کہ در اصل یہ آیت روایت و درایت دونوں پہلوؤں کی حامل ہے، چنانچہ فاسق کے لفظ میں تو روایت کے پہلو کی طرف اشارہ ہے یعنی یہ دیکھ لیا کرو کہ