اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 206
206 لنبيين خاتم المین“ کے نام سے تصنیف فرمائی ہے روایت و درایت کے سلسلہ میں آپ نے کتاب کے شروع میں مثالیں دیکر ایک نوٹ لکھا ہے میں اسے اس جگہ درج کرنا ضروری خیال کرتا ہوں تا درست اور صحیح روایت و درایت کو جانچنے کے اصول کا علم ہو سکے اور جب تاریخی واقعات پر غور کیا جائے تو ان اصولوں کو بھی مدنظر رکھا جا سکے۔آپ تحریر فرماتے ہیں۔روایت کا طریقہ۔۔۔ناظرین کی واقفیت کے لئے یہ ذکر کر دینا بھی ضروری ہے که روایت بیان کرنے کا طریق مسلمانوں میں اس طرح رائج تھا کہ نیچے کے راوی سے شروع ہو کر درجہ بدرجہ ہر راوی کا نام لیتے ہوئے اوپر کو چلتے جاتے تھے حتٰی کہ روایت آنحضرت جی ایم پر یا آپ کے کسی صحابی پر جا کر ختم ہو جاتی تھی۔آنحضرت جیلانی ایام تک پہنچنے والی روایت حدیث کہلاتی ہے اور صحابی پر پہنچ کر ختم ہو جانے والی روایت اثر کہلاتی ہے۔اور ان میں سے ہر ایک کی بہت سی صورتیں ہیں۔طریق بیان عموماً یہ ہوتا تھا کہ مجھ سے الف نے بیان کیا اور الف نےب سے سنا تھا اورب سے ت نے روایت کی تھی اورت کوج نے خبر دی تھی کہ ایک مجلس میں آنحضرت علی نے میرے سامنے فلاں امر کے متعلق یہ الفاظ بیان فرمائے تھے۔یا یہ کہ ہمارے سامنے یہ یہ واقعہ پیش آیا تھا۔۔۔۔۔۔روایت و درایت کے اصول۔۔اصل الاصول اس علم کا یہ ہے کہ ہر واقعہ کی صحت دوطریق پر آزمائی جاسکتی ہے اور جب تک ان دونوں طریق سے کسی واقعہ کی صحت پائیہ ثبوت کو نہ پہنچ جاوے اس پر پور اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔پہلا طریق روایت ہے۔یعنی یہ دیکھنا کہ جو واقعہ ہم تک پہنچا ہے۔وہ واسطہ کس حد تک قابل اعتماد ہے۔دوسراطریق درایت ہے یعنی یہ دیکھنا کہ واقعہ کی صحت کے متعلق اندرونی شہادت کیسی ہے۔یعنی قطع نظر واسطہ کے کیا وہ واقعہ اپنی ذات میں اور اپنے ماحول کی نسبت سے ایسا ہے کہ اسے درست اور صحیح یقین کیا جائے۔یہ وہ دو بنیادی