اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 196
196 ایک معترض کے دل میں پیدا ہونے والے ایک سوال کے تعلق سے آپ فرماتے ہیں م گر معترض کہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص عہد شکنی اور طعن فی الدین دونوں کا مرتکب ہو تو اس سے لڑنا واجب ہے مگر جو شخص صرف طعن فی الدین کا ارتکاب کرے آیت اس کے بارے میں خاموش ہے۔آیت سے صاف واضح ہوتا ہے کہ محض طعن فی الدین کرنے والے کے خلاف جنگ واجب نہیں، اس لئے کہ جو حکم دوصفات کے ساتھ معلق ہوا ایک صفت کی موجودگی میں اس حکم کا وجو د واجب نہیں۔“ 66 الصارم المسلول علی شاتم الرسول صفحه ۵۴ و ۵۵) دیکھا جائے تو معترض کا ایسا کہنا درست دکھائی دیتا ہے کیونکہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے صرف طعن فی الدین کرنے پر کوئی سزا مقرر نہیں کی اس کے ساتھ نقص عہد کو جوڑ کر بیان فرمایا ہے۔اسی لئے مذکورہ آیت میں نقص عہد کی بات کودوبارہ سے بیان کیا گیا ہے۔پھر بات کو اسی جگہ ختم نہیں کیا گیا بلکہ اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔الا تُقَاتِلُوا قَوْماً نَّكَثُوا أَيْمَانَهُمْ وَهَمُّوا بِإِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ وَهُمْ بَدَءُ و كُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ أَتَخْشَوْنَهُمْ ، فَاللهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْهُ إِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِينَ قَاتِلُوهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللهُ بِأَيْدِيكُمْ وَ يُخْزِهِمْ وَيَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُورَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِينَ (سورة التوبة آیت ۱۳ و ۱۴) یعنی۔(اے مومنو!) کیا تم اس قوم سے نہیں لڑو گے جنہوں نے اپنی قسمیں توڑ دیں اور رسول کو ( اس کے گھر سے) نکالنے کا فیصلہ کر لیا اور تم سے ( جنگ چھیڑنے میں ) انہوں نے ہی ابتداء کی کیا تم ان سے ڈرتے ہو؟ (اگر ایسا ہے تو ) اگر تم مومن ہو تو کچھ لو کہ اللہ اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ تم اس سے ڈرو۔ان سے لڑو۔اللہ ان کو تمہارے ہاتھوں سے عذاب دلوائے گا اور