اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 197
197 ان کو رسوا کرے گا اور تمہیں ان پر غلبہ دیگا اور اس ( ذریعہ) سے مومن قوم کے دلوں کو ( صدمہ اور خوف سے ) نجات دیگا۔انہیں آیات کو علامہ پیرزادہ شفیق الرحمن شاہ الڈ راوی نے بھی اپنی کتاب ”شاتم رسول ایم کی شرعی سزا میں پیش کر کے اسی نظریہ کو ظاہر کیا ہے جس نظریہ کو امام ابن تیمیہ پیش فرما رہے ہیں۔لیکن یہ آیات ساری بات کو کھول کر بیان کرتی ہیں کہ جنگ کی وجوہات کیا ہیں۔اور سب سے پہلی بات ہی یہ بیان کی گئی ہے جیسا کہ پہلی آیت میں بھی بیان کی گئی تھی کہ انہوں نے اپنے عہد و پیمان کو توڑا ہے نقص عہد کیا ہے، اپنی قسموں کو توڑا ہے پھر طعن فی الدین بھی کیا ہے۔پھر فرمایا کہ کیا جنہوں نے اپنی قسمیں توڑی ہیں اور رسول کریم علا الہ اہلیہ کو ان کے گھر سے نکال دینے کا ارادہ کیا ہے کیا ایسے لوگوں سے تم جنگ نہیں کرو گے؟ تو جنگ کا جو حکم دیا گیا ہے اس کی وجہ صرف طعن فی الدین نہیں بلکہ نقص عہد اور قسموں کو توڑ نا مسلمانوں کے خلاف جنگ شروع کرتا اور رسول کو اس کے گھر سے نکالنے کا ارادہ کرنا ہے۔ہر شخص یہ بات جانتا ہے کہ جو شخص بھی ایسے جرائم کا مرتکب ہوگا اس کے خلاف جنگ کرنا اور انہیں قتل کرنا بالکل جائز ہوگا۔لیکن صرف طعن فی الدین پر ایسی سزا نہیں دی جاسکتی قرآن کریم صرف اکیلے طعن فی الدین کی کوئی سزا مقرر نہیں کرتا۔مطعن فی الدین تو کوئی ایک آدمی یادہ چار کریں گے لیکن یہاں قتال کا حکم پوری قوم کے خلاف دیا جارہا ہے جو اس بات پر بین ثبوت ہے کہ آئمۃ الکفر نے طعن فی الدین کے علاوہ دیگر جو کام کئے ہیں ان کی سزا دینے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ان پر جنگ مسلط کی ہے تا کہ اللہ تعالیٰ انہیں مومنوں کے ہاتھوں نقص عہد کرنے کے نتیجہ میں ان کو عذاب بھی دے اور رسوا بھی کرے۔امام ابن تیمیہ اسی آیت کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں