اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 195 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 195

195 سزاد بنا اور تأدیب کرنا ایک الگ بات ہے اور سیدھا سیدھا قتل کرنے کی بات کرنا یہ اور بات ہے۔قرآن کریم کی یہ آیت کسی گالی دینے والے کو قتل کرنے کا کوئی حکم نہیں دیتی۔اس آیت میں ایک بات تو طعن فی الدین کی بیان کی گئی ہے اور دوسری بات نقص عہد ہے اور یہی وہ بڑا جرم ہے جسے بیان کر کے آئمہ کفر سے جنگ کرنے کا حکم دیا گیا ہے کیونکہ اسی وجہ خاص کو اس آیت میں دوبارہ سے بیان کیا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ ان لوگوں کی قسموں کا کوئی اعتبار ہی نہیں ہے۔تو گالی سے بڑا جرم نقص عہد بنتا ہے خواہ وہ کسی وجہ سے بھی ہو۔اسی بات کا اظہار امام ابن تیمیہ نے بھی اس طرح کیا ہے کہ۔تیسری وجہ یہ ہے کہ طعن فی الدین کی وجہ سے اللہ نے ان کو آئمۃ الکفر کہا ہے اور ضمیر کی جگہ اسم ظاہر استعمال کیا ہے۔”آئمۃ الکفر“ سے یا تو وہ لوگ مراد ہیں جنہوں نے اپنا عہد توڑ ایادین اسلام کو ہدف طعن بنایا ان میں سے بعض مراد ہیں ، مگر ان میں سے بعض مراد لینا اس لئے درست نہیں کہ وہ فعل جنگ کا موجب ہوا ہے وہ سب سے صادر ہوا ہے،لہذ البعض کو سزا کے لئے مخصوص کرنا جائز نہیں، اس لئے کہ علت کا سب میں پایا جانا ضروری ہے، الا یہ کہ کوئی مانع موجودہ انگر یہاں کوئی مانع نہیں ہے۔اللہ نے دوسری علت یہ بتائی ہے کہ ان کی قسموں کا کوئی اعتبار نہیں، اور یہ علت سب عہد توڑنے والوں اور طعن فی الدین کا ارتکاب کرنے والوں میں پائی جاتی ہے ، نیز یہ کہ نکث ( عہد شکنی ) اور طعن فی الدین ایک وصف مشتق ہے جو وجوب قتال کا مناسب ہے اور یہاں جزا کو شرط پر حرف الفاء کے ساتھ مرتب کیا گیا ہے۔یہ اس بات پر نص ہے کہ یہ فعل سزا کا موجب ہے، پس ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی مراد وہ سب لوگ ہیں اس لئے وہ سب لوگ آئمہ الكفر “ ہیں ( الصارم المسلول علی شاتم الرسول صفحه ۵۷)