اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 194
194 بات یہ ہے کہ اس میں کسی کے قتل کرنے یا نہ کرنے کا کوئی ذکر نہیں۔بلکہ بات یہ ہورہی ہے کہ ایسے لوگ جن کے ساتھ عہد و پیمان ہو چکے ہیں ان میں سے اگر کوئی اپنے عہد کو توڑتے ہیں اور دین کے بارے میں بھی طعن کرتے ہیں یعنی تحقیر سے پیش آتے ہیں اور غصہ دلانے والی باتیں کرتے ہیں تو ایسے لوگوں سے جنگ کروں۔جنگ کسی ایک شخص سے نہیں کی جاتی بلکہ پوری قوم سے کی جاتی ہے یہاں کسی ایک آدمی کا ذکر ہی نہیں ہے کہ اسے قتل کر دیا جائے ، بلکہ فرمایا کہ فَقَاتِلُوا آئمةَ الْكُفْرِ یعنی سردار ان سے جنگ کرو اور جب سرداران سے جنگ ہوگی تو اس کی قوم پیچھے نہیں رہتی ہے۔پھر یہ کہ ان سے جنگ کیوں کرنی ہے فرمایا تا کہ وہ شرارتوں سے باز آجائیں کیونکہ ان کی قسموں کا کوئی اعتبار نہیں ہے، تو یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جنگ اگر کرنی ہی پڑتی ہے تو وہ بھی صرف اس لئے تا کہ وہ اپنی شرارتوں سے باز آجائیں۔اور طعن فی الدین کرنا چھوڑ دیں۔یہ کہیں نہیں فرمایا کہ طعن فی الدین کرنے والے کو فوری قتل کر دو۔جنگ کرنے کی بھی دو وجوہات ہیں ایک تو طعن فی الدین ہے جس سے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے سے فتنہ وفساد کا اندیشہ ہو اور دوسرا سب سے بڑا جرم نقص عہد ہے۔ہیں۔اسی آیت کے ضمن میں پیرزادہ شفیق الرحمن شاہ الڈ راوی ، امام ابن تیمیہ کے حوالہ سے لکھتے (کوئی) ایک ذمّی اللہ یا رسول الله علم کو گالی دے، یا اعلانیہ اسلام میں عیب نکالے، تو اس نے طعن فی الدین کا ارتکاب کر کے اپنی قسم کو توڑ دیا ہے، اس لئے بلا خوف و نزاع اسے سزادی جائے گی، اور اس کی تادیب کی جائے گی۔(الصارم المسلول ۱۳۵ ( اردو ترجمه صفحه ۵۶) بحوالہ شاتم رسول کی شرعی سز اصفحہ ۱۸۱)