اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 193 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 193

193 العرض اسلام کسی پر جبر کی تعلیم نہیں دیتا ، ہاں مخالف کی طرف سے جنگ چھوٹی جانے کی صورت میں دفاع کی اجازت دیتا ہے اور فتح کی صورت میں بھی کسی پر اسلام قبول کرنے کے لئے جبر نہیں کرتا۔مفتوح قوم خواہ وہ کسی بھی دین سے تعلق رکھتی ہو معاہدہ کی شرط پر اسلامی مملکت میں رہ سکتی ہے لیکن اس کے لئے شرط یہی ہے کہ وہ اپنے معاہدہ کی پاسداری کرے گی، اگر وہ معاہدہ کو توڑتی ہے تو ان کی حیثیت حربی کی ہوگی۔ان آیات میں کسی کے گالی دینے پر اسے قتل کئے جانے کا کوئی حکم نہیں البتہ معاہدہ توڑنے کی صورت میں وہ لوگ قابل مؤاخذہ ہو نگے اور حربی کہلائیں گے۔تیسر لیل امام ابن تیمیہ نے جو آیت تیسری دلیل کے طور پر پیش کی وہ یہ ہے۔وَإِن نَّكَثُوا أَيْمَانَهُمْ مِّنْ بَعْدِ عَهَدِهِمْ وَطَعَنُوا فِي دِينِكُمْ فَقَاتِلُوا أَئِمَّةً الكفر ( التوبآيت (۱۲) یعنی۔اور اگر ( یہ لوگ ) اپنے عہد و پیمان کے بعد اپنی قسموں کو توڑ دیں اور تمہارے دین پر طعن کریں ، تو (ایسے) سرداران کفر سے لڑائی کرو۔اس آیت کے آگے کے الفاظ یہ ہیں إنَّهُمْ لَا أَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنْتَهُونَ یعنی ، تا کہ وہ شرارتوں سے باز آجائیں کیونکہ ان کی قسموں کا کوئی اعتبار نہیں۔7 امام ابن تیمیہ نے اس آیت کے اول حصہ کو پیش کر کے وہاں سے دین پر طعن کرنے کی بات کو لیکر یہ دلیل پکڑی ہے کہ جو طعن فی الدین کرتا ہے اس کے نتیجہ میں اس کی طرف سے کیا ہوا عہد ٹوٹ جاتا ہے ایسا اگر قی کرتا ہے تو اسے اس جرم میں قتل کیا جائے گا۔