اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 14
14 آمدا نبیاء اور ناموس رسالت قرآن کریم اور تاریخ مذاہب پر غور کرنے سے یہ امر صاف دکھائی دیتا ہے کہ جب بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی بنی مبعوث ہوا تو ہمیشہ اس زمانہ کے لوگوں نے اس کی مخالفت کی اور اس نبی کو ہر لحاظ سے نقصان پہچانے اور اس کے ساتھ ہنسی مذاق کرنے کا کوئی دقیقہ باقی نہیں چھوڑا اور قرآن کریم اس بات کی گواہی دیتا ہے جیسا کہ فرماتا ہے وَمَا يَأْتِيهِمْ مِنْ أَبِي إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِعُونَ (الاشرف آیت (۸) یعنی۔جب کبھی بھی ان کے پاس کوئی نبی آتا ہے وہ اس کو حقارت کی نظر سے دیکھنے لگ جاتے ہیں ( اور تمسخر کرنے لگ جاتے ہیں) نیورماتلے يراً عَلَى الْعِبَادِمَا يَأْتِيهِم مِن رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ ٥ یس آیت ۳۱) یعنی۔ہائے افسوس ( انکار کی طرف مائل ) بندوں پر جب کبھی بھی ان کے پاس کوئی رسول آتا ہے وہ اس کو حقارت کی نظر سے دیکھنے لگ جاتے ہیں (اور تمسخر کرنے لگتے ہیں) ان آیات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ جب بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے نبی اور رسول دنیا میں آتے ہیں ان کے ساتھ اس زمانہ کے لوگ ہمیشہ ہی ہنسی ٹھٹھہ اور مذاق کرتے ہیں اور ان کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔اور وہ لوگ جو ان انبیاء پر ایمان نہیں لاتے وہ ہمیشہ ہی ان سے ایسا ہی سلوک کرتے چلے جاتے ہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ کے انبیاء کبھی بھی ایسے لوگوں پر تیش میں نہیں آتے اور انہیں برابھلا نہیں کہتے بلکہ وہ اس کام میں ہمیشہ لگے رہتے ہیں جس کا ان کو خدا تعالی کی طرف سے حکم دیا جاتا ہے۔جن انبیاء کا ذکر قرآن کریم میں موجود ہے ان کے مخالفین