اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 13
13 لانے اور ان کے خدا کی طرف سے آنے اور ان کی عزت و تکریم کرنے کے لحاظ سے کسی میں امتیاز نہیں کیا جا سکتا۔اسی بات کا ذکر قرآن کریم کی سورت بقرہ کی آیت نمبر ۲۸۶ میں گزرا ہے۔جہاں تک ایک دوسرے پر فضیلت کی بات ہے تو اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں بیان فرماتا ہے تلكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ مِنْهُمْ مَّنْ كَلَّمَ اللهُ وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجَتِه (البقره آیت ۲۵۴ یعنی۔یہ رسول ہیں جن میں سے ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت بخشی تھی اور ان میں سے بعض ایسے ہیں جن سے اللہ نے کلام کیا اور اس میں سے بعض کے درجات بلند کئے۔اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ انبیاء با وجود اس کے کہ درجات کے لحاظ سے بعض بعض پر فضیلت تو رکھتے ہیں لیکن عزت و تکریم کے لحاظ سے ناموس کے لحاظ سے سب برابر ہیں۔اور جب بھی ناموس رسالت کی بات آئے گی تو قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق کسی ایک نبی کے ناموس کی بات نہیں آئے گی بلکہ تمام انبیاء کی ناموس کا خیال رکھنا ہوگا یہی قرآن کریم ہمیں حکم دیتا ہے اور یہی قرآن کریم کی کاملیت اور افضلیت کا ثبوت ہے۔