اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 15 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 15

15 نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا اس کا ذکر انبیاء کے ذکر کے ساتھ ہی ملتا ہے لیکن ہر نبی نے اپنے زمانہ کے لوگوں سے نرمی اور احسان کا ہی سلوک کیا۔اگر دکھا جائے تو آنحضرت لعلل ایلیم سے پہلے کے انبیاء کو اپنی قوم کے لوگوں سے جن جن تکالیف سے گزرنا پڑا وہ تمام قسم کی تکالیف سے ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطف علی کو گزرنا پڑا۔باوجود ہر قسم کی تکالیف اٹھانے کے آپ ہی نے تمام انبیاء سے بڑھ کر اپنی قوم سے رحمت و شفقت اور احسان کا سلوک فرمایا۔اسی بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔مَا يُقَالُ لَكَ : لَّا مَا قَدْ قِيلَ لِرُّسُلِ مِنْ قَبْلِكَ إِنَّ رَبَّكَ لَذُو مَغْفِرَةٍ وذُوْعِقَابِ اليمده (تم السجدة آيت (۳۴) یعنی۔مجھ سے صرف وہی باتیں کہی جاتی ہیں جو تجھ سے پہلے رسولوں سے کہی گئی تھیں۔تیرا رب بڑی بخشش والا ہے اور اس کا عذاب بھی دردناک ہے۔قرآن کریم کی اس آیت سے ایک تو یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ جو جو باتیں آنحضرت لام سے مخالفین کرتے رہتے تھے ایسی ہی باتیں تمام انبیاء کے مخالفین اپنے زمانہ کے نبیوں سے کرتے رہے۔دوسری بات یہ بھی ظاہر ہوتی ہے کہ ان مخالفانہ اور تمسخرانہ باتوں کے بالمقابل بنی ان کے ساتھ ویسا ہی سلوک نہیں کرتے بلکہ ان کا معاملہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیتے ہیں کہ چاہیے تو وہ انہیں بخش دے اور چاہے تو وہ انہیں دردناک عذاب میں مبتلاء کر دے۔اور یہی کام ہمارے پیارے رسول حضرت محمد مصطف ملیم نے اپنے مخالفوں اور دشمنوں کے ساتھ کیا۔اسی طرح اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَلَقَدِ اسْتَهْزِى بِرُسُلٍ مِنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِينَ سَهَرُوا مِنْهُمْ مَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ (الانبیاء آیت ۴۲)