اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 89 of 155

اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 89

89 تمہیں خوف خدا نہیں؟ علی کہنے لگے: یہ خبیث ( عکرمہ) میرے والد صاحب کے نام پر جھوٹی روایات بیان کرتا پھرتا ہے نیز لکھتے ہیں: وھیب روایت کرتے ہیں کہ میں بیٹی بن سعید انصاری اور ایوب کے پاس تھا کہ انہوں نے عکرمہ کا ذکر کیا۔اس پر یحیی بن سعید نے کہا کہ عکرمہ کذاب تھا“ (الضعفاء الكبير لحافظ ابی جعفر محمد بن عمر بن موسى بن الحماد المكي دار الكتب العلمية، بيروت طبع اول ۹۸۴اء السفر الثالث ص ۳۷۳، ۳۷۴) ج۔حضرت ابن حجر العسقلانی لکھتے ہیں: * یحیی بن معین نے کہا: امام مالک بن انس نے عکرمہ سے صرف اس وجہ سے روایات بیان نہیں کی ہیں کہ وہ صفر یہ فرقے کے خیالات رکھتا تھا۔* عطاء کہتے ہیں کہ وہ ( عکرمہ ) اباضیہ فرقے سے تعلق رکھتا تھا۔* الجوز جانی کہتے ہیں کہ میں نے امام احمد سے پوچھا کہ کیا عکرمہ اباضی تھا؟ انہوں نے کہا: کہا جاتا ہے کہ وہ صفری تھا۔* * مصعب الزبیری کے نزدیک عکرمہ خارجی خیالات کا حامل تھا۔ابراہیم بن مندز نے معن بن عیسی اور دوسرے لوگوں سے روایت کی ہے کہ امام مالک عکرمہ کو ثقہ خیال نہ کرتے تھے اور حکم دیتے تھے کہ اس کی بیان کردہ روایات قبول نہ کی جائیں۔* میں نے اہل مدینہ میں سے بعض کو یہ کہتے سنا ہے کہ عکرمہ اور عزہ نامی لڑکی کے عاشق کُفیر کی میتیں ایک ہی دن میں مسجد کے دروازے کے