اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 88
88 میں کتب الرجال کی بڑی بڑی تالیفات سے درج ذیل شواہد آپ کے سامنے پیش ہیں: ) الذھبی کہتے ہیں: ہمیں الصلت ابو شعیب نے بتایا کہ میں نے محمد بن سیرین سے عکرمہ کے بارہ میں دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ مجھے اس بات سے کوئی تکلیف نہیں کہ وہ اہل جنت میں سے ہو مگر یہ حقیقت ہے کہ وہ بہت ہی زیادہ جھوٹ بولنے والا ہے۔“ الذھبی مزید کہتے ہیں۔یعقوب بن الحضر می اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بتایا ہے کہ ایک بار عکرمہ مسجد کے دروازے پر کھڑا ہو کر کہنے لگا کہ اس مسجد میں موجود سب لوگ کافر ہیں۔عکرمہ اباضیہ فرقہ کے خیالات رکھتا تھا۔“ الذھبی مزید فرماتے ہیں: ابن المسیب نے اپنے غلام بُرد سے کہا کہ میری طرف منسوب کر کے جھوٹی روایات بیان نہ کرنا جیسے عکرمہ، ابن عباس کی طرف جھوٹی روایات منسوب کرتا ہے۔“ (ميزان الاعتدال في نقد الرجال لمحمد بن بن العثمان احمد الذهبي - عكرمة مولى ابن عباس ب: ایک اور محقق لکھتے ہیں۔”عبداللہ بن الحارث کہتے ہیں کہ میں علی بن عبد اللہ بن عباس کے ہاں گیا تو دیکھا کہ باب الحش کے سامنے عکرمہ پابہ زنجیر پڑا ہے۔میں نے علی کو کہا کیا