اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 90
90 سامنے لائی گئیں۔لوگوں نے کثیر کا جنازہ تو پڑھ لیا مگر عکرمہ کا جنازہ بہت کم لوگوں نے پڑھا۔احمد سے بھی اس مفہوم کی روایت بیان ہوئی ہے۔* ہشام بن عبداللہ المحزومی کہتے ہیں کہ میں نے ابن ابی ذئب کو کہتے سنا کہ عکرمہ غیر ثقہ تھا اور میں نے اسے دیکھا ہوا ہے“ (تهذيب التهذيب، لامام حافظ شهاب الدين احمد بن العسقلانی، عكرمة البريرى ابو عبدالله المدنى مولى ابن عباس) پس ایک ایسی روایت پر بنا کرنا جس کے بارہ میں واضح طور پر ثابت ہو کہ اس کا راوی سخت جھوٹا تھا اور حضرت علی کا شدید دشمن تھا قطعا جائز نہیں۔داخلی شہادت پھر جب ہم روایت کے الفاظ کی چھان بین کرتے ہیں تو اس کو کئی لحاظ سے غلط پاتے ہیں۔ا۔اس میں شک نہیں کہ حضرت ابن عباس کا اپنا ایک مقام ہے۔مگر حضرت علی کے مقام کا مقابلہ تو وہ نہیں کر سکتے تھے۔وہ خلیفۃ الرسول تھے۔خدا نے ان کو خلافت کے لئے چنا تھا۔یہ ممکن نہیں تھا کہ حضرت ابن عباس کو تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کا پاس ہو اور حضرت علی کو پاس نہ ہو۔اگر ہم روایت کو درست بھی مان لیں تب بھی ابن عباس کا طرز بیان ہی بتا رہا ہے کہ وہ اس خبر کی تصدیق ہی نہیں کرتے۔وہ کہتے ہیں: میں اپنے متعلق سوچ کر دیکھتا ہوں تو میں کبھی ایسا کرنے کے لئے تیار ہی نہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ واضح حکم تھا حضرت علیؓ کب ایسا کر سکتے ہیں۔