اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 50
50 سے بڑھ کر مومنوں سے محبت کا لفظ بھی خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق استعمال فرما چکا ہے۔قرآن کریم فرماتا ہے: لَقَدْ جَاءَ كُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمُ (التوبة: ۱۳۸) کہ تم جو تکلیف اٹھاتے ہو وہ اس رسول پر بہت شاق گزرتی ہے جن کی طرف سے تکلیف پہنچتی ہے ان کے خلاف اس کے دل میں شدید جذبات پیدا ہوتے ہیں۔پھر فرمایا بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ۔اَذِلَّةٌ کا لفظ اس کے مقابل پر تو کوئی بھی حیثیت نہیں رکھتا۔فرمایا: مومنوں کے لئے یہ رؤف ہے اور رحیم ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کی دوصفات ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک میں اس شان سے جلوہ گر ہوئی ہیں کہ آپ کو قرآن کریم رَءُوفٌ رَّحِیم قرار دے رہا ہے۔اس عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ کے مصداق اور اس رَءُوفٌ رَّحِیم کے ہوتے ہوئے کیوں اللہ تعالیٰ نے قتل مرتد کا حکم نہیں دیا ؟ کیوں یہ وعدہ فرما کے ٹال دیا کہ کوئی بات نہیں میں آئندہ ایک قوم بھیج دوں گا جو تمہارے لئے یہ کام کر دے گی؟ جہاں تک میں نے تلاش کیا ہے مجھے ان چار دلائل کے سوا جنہیں مزعومہ طور پر قرآن کریم کی نصوص صریحہ کے طور پر قتل مرتد کے عقیدہ کے حق میں پیش کیا جاتا ہے اور کوئی آیت علماء کی طرف سے پیش کردہ نہیں ملی۔اگر کسی کے علم میں ہو تو مجھے بھجوائے۔انشاء اللہ اس کا بھی جواب دے دیا جائے گا۔