اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 49 of 155

اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 49

49 لے آئیں گے جو خدا سے محبت کرنے والی ہوگی اور خدا ان سے محبت کریگا۔ان کی یہ صفات ہوں گی کہ وہ مومنوں کے لئے تو بڑے نرم دل ہوں گے اور کافروں کے لئے سخت ہوں گے اور تلوار کے زور سے انہیں غارت کریں گے۔66 يُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللهِ “ کا یہ ترجمہ بھی کر لیا گیا حالانکہ جہاد کے تو بڑے وسیع معانی ہیں۔جَاهِدُهُمْ بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا (الفرقان: ۵۳) بھی تو قرآن میں آیا ہے جو قرآن ہی کے متعلق ہے اور یہاں جہاد بالسیف کا اشارتا بھی کوئی ذکر نہیں۔اگر اس استدلال کو منظور کر لیا جائے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کی شدید گستاخی ہے کہ گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آپ کے صحابہ میں سے تو کوئی لڑنے والا ، دین کی غیرت رکھنے والا نہیں تھا جو اللہ تعالی کے فضل سے عطا ہوتی ہے اور گویا اللہ نے کہا کہ میں ایسے متقی لوگوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھیج دوں گا۔وہ آپ ہی ان سے نپٹتے پھریں گے۔تمہیں پروا کی کوئی ضرورت نہیں۔ذلِكَ فَضْلُ اللهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ کہ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جسکو چاہے دیتا ہے۔(المآئدة: ۵۵) اس سیاق وسباق میں تو یہ مطلب بنے گا کہ تمہیں تو یہ فضل نہیں ملا ہتم فکر نہ کرو اور لوگوں کو مل جائے گا یعنی دشمنوں سے لڑنے کی توفیق۔وہ بھول گئے کہ یہی ”عزیز “ کا لفظ بڑی شان کے ساتھ قرآن کریم اس سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق استعمال فرما چکا ہے۔اور آذِلَّة“