اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 51
51 مرتدین کے بارہ میں قرآن کا موقف اب اس کے مقابل پر میں وہ آیات قرآنیہ پیش کرتا ہوں جن میں ارتداد کا واضح ذکر موجود ہے مگر ارتداد کی سزا قتل کا قطعا کوئی ذکر موجود نہیں بلکہ اس کے برعکس کھلا کھلا مضمون ہے اور اس مضمون پر اتنی واضح آیات ہیں کہ ان کے بعد نظریہ قتل مرتد کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔پہلی آیت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: إِذَا جَاءَكَ الْمُنْفِقُونَ قَالُوا نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللهِ وَاللهُ يَعْلَمُ إِنَّكَ لَرَسُولُهُ وَاللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّ الْمُنْفِقِينَ لَكَذِبُونَ اتَّخَذُوا أَيْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوا عَنْ سَبِيْلِ اللَّهِ إِنَّهُمْ سَاءَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ، ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ أَمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوا فَطِيعَ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لَا يَفْقَهُونَ وَإِذَا رَأَيْتَهُمْ تُعْجِبُكَ أجْسَامُهُمُ وَ إِنْ يَقُولُوا تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ كَأَنَّهُمْ خُشُبُ مُسَنَدَةٌ يَحْسَبُوْنَ كُلَّ صَيْحَةٍ عَلَيْهِمْ هُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْ قْتَلَهُمُ اللهُ الى يُؤْفَكُونَ ، وَإِذَا قِيْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا يَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَسُولُ اللهِ لَقَوْا رُءُوسَهُمْ وَرَأَيْتَهُمْ يَصُدُّونَ وَهُمْ مُسْتَكْبِرُونَ ) (المتفقون : ۲ تا ۶) کہ اے محمد ! جب منافق تیرے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ یقینا تو اللہ کا رسول ہے اور اللہ خوب جانتا ہے کہ تُو اس کا رسول