اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 109 of 155

اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 109

109 دلیل ہفتم اسی طرح حضرت امام ابوحنیفہ کے استاد حضرت حماد کے استاد حضرت ابراہیم مخفی جو علماء حدیث اور فقہ میں غیر معمولی مقام رکھتے ہیں ان کے متعلق لکھا ہے کہ۔: و, وہ مرتد کو موت تک یعنی غیر محدود مدت تک مہلت دینے کے قائل تھے۔“ (نيل الأوطار لامام محمد بن علی بن محمد الشوكاني۔ابواب احكام الردة والاسلام باب قتل المرتد۔) اتنا بڑا چوٹی کا عالم جو علماء حدیث اور فقہ میں ایک غیر معمولی مقام رکھتا ہے اس کا اختلاف ان آج کل کے علماء کو نظر ہی نہیں آ رہا عصر حاضر کے علماء کی آراء اس زمانہ کے علماء نے بھی کبھی اس نظریہ پر اتفاق نہیں کیا۔سابق میں تو کبھی اجماع ہوا ہی نہیں ، اب بھی اجماع نہیں ہے۔مثلا : ا۔امام محمود شلتوت سابق شیخ الازھر فرماتے ہیں: اس جرم کے بارہ میں جو کچھ قرآن کریم میں آیا ہے وہ درج ذیل آیت کریمہ ہے: وَمَنْ يَّرْتَدِدُ مِنْكُمْ عَنْ دِينِهِ فَمَتْ وَ هُوَ كَافِرُ فَأُولَبِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ وَأُولَيكَ أَصْحَبُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خُلِدُونَ (المائدة : ۵۵) اور آپ دیکھ رہے ہیں کہ اس آیت میں صرف یہ ذکر ہے کہ ایسے مرتدین کے اعمال ضائع ہو جائیں گے اور آخر میں آگ میں رہتے چلے جانے کی سزا پائیں گے۔