اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 110
110 جہاں تک اس جرم کی دنیوی سزا کا تعلق ہے تو اس کے ثبوت میں فقہاء درج ذیل حدیث پیش کرتے ہیں جو ابن عباس سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "مَنْ بَدَّلَ دِيْنَهُ فَاقْتُلُوهُ“ علماء نے اس حدیث پر مختلف زاویوں سے بحث کی ہے۔۔۔۔اس مسئلہ کے بارہ میں نقطہ نظر اس وقت بدل جاتا ہے جب یہ بات سامنے رکھی جائے کہ بہت سے علماء کی رائے میں حدود کہلانے والی سزاؤں کی بنیاد حدیث احاد کو نہیں بنایا جا سکتا اور یہ کہ صرف کفر کی وجہ سے کسی کا خون بہانا جائز نہیں بلکہ صرف اس صورت میں کسی کا خون بہانا جائز ہوگا جب کوئی مسلمانوں سے جنگ کرے اور ان پر حملہ کرے اور بزور شمشیر ان کو ان کے دین سے رو کے اور یہ کہ قرآن کریم کی اکثر آیات واضح طور پر دینی امور میں کسی پر زبردستی کرنے کی مخالفت کرتی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَى نیز فرمایا: " أَفَأَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتَّى يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ" (الاسلام عقيدة وشريعة - طبعة دار العلم - القاهرة - صفحه ۲۹۲-۲۹۳) ۲۔علاؤالدین -۲- استاذ محمحمود زغلف ڈاکٹر علاؤ الدین زیدان عبد المنعم یحییٰ الکامل اور يَحْی کامل احمد صاحبان کی رائے ہے کہ : اس مزعومہ حد کی کوئی دلیل قرآن یا سنت صحیحہ میں قطعاً موجود نہیں بلکہ اس کے برعکس متعدد آیات قرآنیہ اس قسم کے مزاعم کو قطعاً باطل قرار دیتی اور انسان کو کفر یا ایمان کے اختیار کرنے میں آزادی دیتی ہیں۔چاہے وہ اسلام میں داخل ہو جائے اور چاہے تو اسے چھوڑ کر علیحدہ ہو جائے۔نیز بتاتی