اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 64
64 کہ ابن عباس سے رایت ہے کہ عبداللہ بن سعد بن ابی سرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کاتب وحی ہوا کرتا تھا مگر شیطان نے اسے پھسلا دیا اور وہ کفار سے جا ملا۔فتح مکہ کے روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو قتل کئے جانے کا حکم دیا۔حضرت عثمان نے آپ سے اس کی معافی کی درخواست کی جسے آپ نے منظور فرماتے ہوئے اسے معاف کر دیا۔(۲) اسی طرح سنن النسائی میں ہے۔عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتحِ مَكَّةَ أَمَّنَ رَسُولُ اللهِ الله النَّاسَ إِلَّا اَرْبَعَ نَفَرٍ وَ امْرَأَتَيْنِ، وَ قَالَ: اقْتُلُوهُمُ وَ إِنْ وَجَدْتُمُوهُمْ مُتَعَلِّقِيْنَ بِاَسْتَارِ الْكَعْبَةِ، عِكْرَمَةُ بْنَ أَبِي جَهْلِ وَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَطَلٍ وَ مَقِيْسُ بْنُ صُبَابَةَ وَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ ابْنِ ابي السَّرح (سنن النسائى كتاب تحريم الدم۔باب الحكم في المرتد) کہ فتح مکہ کے روز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار مردوں اور دو عورتوں کے سوا سب کو عام معافی دے دی اور فرمایا کہ ان کو قتل کر دو خواہ ان کو کعبہ کے پردوں سے چمٹ کر پناہ مانگتے پاؤ۔ان کے نام تھے: عکرمہ بن ابو جہل۔عبداللہ بن خطل مقیس بن صبابہ اور عبد اللہ بن ابی سرح۔(۳) نیز مروی ہے: عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ۔۔۔عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحِ الَّذِي كَانَ عَلَى مِصْرَ كَانَ يَكْتُبُ لِرَسُولِ اللَّهِ لا فَازَلَّهُ الشَّيْطَانُ فَلَحِقَ بِالْكُفَّارِ فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُقْتَلَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَاسْتَجَارَ لَهُ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ