اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 63 of 155

اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 63

63 یہ ہے حدیث قتل مرتد کے جواز میں۔اور ٹیڑھی باتوں کے علاوہ دلیل دینے والوں نے یہ زیادتی اور ظلم کیا ہے کہ اس کا پس منظر آپ سے چھپالیا ہے اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ جونہی اس نے ارتداد کیا ، اسی وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قتل کا حکم دیدیا اور پھر انتظار کرتے رہے کہ کب وہ قابو آئے تو اسے قتل کر دیا جائے۔ہرگز ایسا کوئی واقعہ نہیں۔واقعہ یہ ہے کہ یہ شخص ان حد سے بڑھے ہوئے مجرموں میں سے ایک تھا جن کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد عام معافی سے مستفی قرار دیا تھا اور جس طرح عام معافی سے مستقلی قرار دینے کے باوجود ان میں سے بہتوں کو آپ نے رحمت کے ساتھ معاف فرما دیا تھا، اس کو بھی آپ کی بڑھی ہوئی رحمت نے معاف فرما دیا۔واقعہ یہ ہوا کہ عبداللہ بن ابی سرح نہ صرف یہ کہ مرتد ہوا تھا بلکہ شرارت میں بہت بڑھ چکا تھا اور مسلمانوں کے خلاف محاربت میں شامل تھا۔جب فتح مکہ ہوئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ان لوگوں میں شامل کر دیا جن کے متعلق ارشاد فرمایا تھا کہ ان کو معاف نہیں کیا جائیگا۔یہ شخص حضرت عثمان سے پناہ کا ملتجی ہوا اور انہوں نے آپ کو پناہ دلا دی۔چنانچہ لکھا ہے: (۱) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ عَبْدُ اللَّهِ ابْنُ سَعْدِ ابْنِ أَبِي السَّرْحِ يَكْتُبُ لِرَسُولِ اللهِ ﷺ فَازَلَّهُ الشَّيْطَانُ، فَلَحِقَ بِالْكُفَّارِ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللهِ الا الله أَنْ يُقْتَلَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَاسْتَجَارَ لَهُ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَأَجَارَهُ رَسُولُ اللهِ ال (سنن ابی داؤد کتاب الحدود باب الحكم فيمن ارتد