اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 65 of 155

اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 65

65 فَأَجَارَهُ رَسُولُ اللهِ الله - (سنن النسائی کتاب تحريم الدم باب توبة المرتد) عبداللہ بن سعد بن ابی سرح جو ( بعد میں) مصر کا گورنر بنا رسول اللہ کے لئے وحی لکھا کرتا تھا۔اسے شیطان نے پھسلا دیا اور وہ کفار کے ساتھ جا ملا۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے روز حکم دیا کہ اسے قتل کر دیا جائے مگر حضرت عثمان نے انہیں پناہ دینے کی سفارش کی تو رسول اللہ نے ان کی درخواست قبول فرما کر اسے پناہ دیدی۔یہ ہے اصل واقعہ مگر ان علماء کے استدلال کی رو سے تو یہ صورتحال بنتی ہے کہ گویا حضرت عثمان کو فتح مکہ تک اس مسئلے کا علم ہی نہیں تھا کہ مرتد کی سزا قرآن کریم نے قتل قرار دی ہے۔ایسے شخص کو تو پناہ دینا ہی جرم ہے اور قرآن کریم کے شدید منافی۔یعنی استنباط کرنے والے اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ حضرت عثمان پر وہ کیسا گھناؤنا الزام لگا رہے ہیں۔اس کو پہلے تو خود پناہ دی اور پھر اتنی جرات کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اسے پیش کیا اور درخواست کی کہ اس کی بیعت لے لیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی جواباً یہ نہیں فرمایا کہ عثمان ! یہ تم کیا حرکت کر رہے ہو؟ تمہیں علم نہیں کہ خدا کی حدود کے بارہ میں میں کیسی غیرت رکھتا ہوں؟ تمہیں یاد نہیں کہ جب ایک چوری کرنے والی کی سفارش مجھ سے کی گئی تھی تو میں نے خدا کی قسم کھا کر یہ کہا تھا کہ بخدا! اگر میری بیٹی فاطمہ نے بھی یہ حرکت کی ہوتی تو میں اس کے بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔(ملاحظہ ہو بخاری کتاب الحدود باب اقامة الحدود على الشريف والوضيع) کیونکہ حدوداللہ میں کسی قسم کی رعایت جائز نہیں۔تمہاری یہ جرات کہ میرے سامنے