اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 87
87 راوی عکرمہ خارجی اور حضرت علی کا دشمن تھا۔چنانچہ رجال حدیث کی بڑی اور اہم کتب میں اس کے بارہ میں لکھا ہے کہ یہ ایسا کمینہ اور خبیث شخص تھا کہ مسلمانوں نے اس کا جنازہ تک نہیں پڑھا۔اسی وجہ سے ایسے علماء حدیث نے جن کو روایات کی صحت جانچنے کے بارہ میں ید طولیٰ حاصل تھا یہ فیصلہ دیا ہے کہ اس روایت کی کوئی قیمت نہیں کیونکہ اس کا راوی زندیق اور خارجی تھا اور حضرت علیؓ کے دشمنوں کا حامی تھا خصوصاً ان ایام میں جب حضرت علی اور حضرت ابن عباس کے درمیان اختلافات شروع ہوئے۔عباسی دور میں عکرمہ نے ایک نیک اور خدا ترس عالم کے طور پر بڑی شہرت اور تعظیم حاصل کر لی تھی اور یہ بات واضح ہے کہ اس شہرت کا باعث ، حضرت علی کی مخالفت اور عباسیوں کی حمایت تھا جو سیاست کی وجہ سے ہر اس شخص اور چیز کی مخالفت کرتے تھے جس کا تعلق اولا دعلی سے ہو۔عمومی طور پر دیکھا گیا ہے کہ قتل مرتد کی روایات نے دراصل بصر ہ ، کوفہ اور یمن میں رونما ہونے والے واقعات سے جنم لیا ہے کیونکہ اہل حجاز یعنی مکہ و مدینہ والے اس روایت سے بالکل لاعلم نظر آتے ہیں۔پھر اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ عکرمہ کی اس روایت کے رادی عراقی ہیں اور اس ضمن میں قارئین کو امام طاؤوس بن کیسان کا یہ قول نہیں بھولنا چاہئے کہ : اگر کوئی عراقی تجھے سو حدیثیں بتائے تو ان میں سے ۹۹ کو تو بالکل پھینک دو اور باقی کے بارہ میں بھی شک ہی کرو“۔جہاں تک عکرمہ کے خارجی، غیر ثقہ اور کذاب ہونے کا تعلق ہے تو اس ضمن