اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 86
86 چھان بین کی جائے۔بڑے بڑے علماء کرام جنہوں نے روایات کی صحت کے بارہ میں تحقیقات کے لئے اپنی زندگیاں صرف کر دیں، انہوں نے عکرمہ کی اس روایت کے بارہ میں فیصلہ دیا ہے کہ یہ روایت غریب اور احاد روایات میں آتی ہے یعنی اس کا راوی صرف ایک عکرمہ ہی ہے۔اور مولا نا عبدالحی لکھنوی رحمہ اللہ کی رائے ہے کہ چونکہ امام بخاری نے عکرمہ سے روایت کی ہے اس لئے دوسرے محدثین نے بھی اس کی روایت قبول کر لی بغیر اس کے کہ وہ خود اس کے بارہ میں تحقیق کرتے “ الرفع والتكميل فى جرح والتعديل صفحه ۷۔طبع قدیم لکھنو) یہ تو ممکن ہے کہ ایک ہی راوی سے مروی روایت صحیح اور معتبر حدیث ہومگر وہ روایت ایسی حدیث صحیح کے پائے کو نہیں پہنچ سکتی جو کئی راویوں سے مروی ہو۔اس لئے ایسی احاد روایات پر ایسے امور کے بارہ میں بناء نہیں کی جاسکتی جو حقوق وذمہ داریوں اور واجبات اور سزاؤں سے تعلق رکھتے ہوں۔خصوصاً حدود کے مسائل کے بارہ میں یعنی وہ سزائیں جن کو خود قرآن نے مقرر کیا ہے لہذا ایسے نازک اور حساس مسئلہ کے بارہ میں ایسی حدیث احاد پر بناء نہیں کی جاسکتی خواہ وہ بعض علماء کے نز دیک صحیح ہی کیوں نہ ہو۔راوی خارجی ہے پھر ہمیں راوی عکرمہ اور اس کی شہرت کے بارہ میں مزید چھان بین کرنا ضروری ہے۔جب اس روایت کو اس معیار سے پر کھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ اس کا