اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 77
77 ہماری سرزمین سے نکل جاؤ۔پھر انہوں نے مسلمان عمال کو نکال کر ان کی جگہ عمر و بن حزم اور خالد بن سعید کو حاکم مقرر کر دیا۔بعد ازاں اسود اپنی فوج لے کر صنعاء پر حملہ آور ہوا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرر کردہ عامل شہر بن باذان کو قتل کر کے صنعاء پر قابض ہو گیا اور دوسرے مسلمانوں کو قتل کیا۔حضرت معاذ بن جبل نے بھاگ کر جان بچائی اور ما رب پہنچ کر حضرت ابوموسیٰ الاشعری کو صورتحال سے باخبر کیا۔یہ دونوں حضرموت کی طرف آگئے اور یوں سارا ملک یمن اسود کے قبضہ میں آ گیا۔اس کی حکومت وہاں قائم ہوگئی اور اس کی طاقت بڑھتی گئی۔آخر کار یمامہ میں ایک معرکہ میں مسلمانوں نے اسے واصل جہنم کیا۔“ طلیحہ بن خویلد کے حالات وو طلیحہ نے نبوت کا دعویٰ کیا اور باغیوں کو ساتھ لے کر سمیراء مقام پر مورچہ بند ہوا۔اس کے پیچھے اتنے لوگ آئے کہ ان کے لئے جگہ کم ہو گئی۔انہوں نے دوٹولیوں میں بٹ کر اپنے دفد مدینہ بھیجے۔حضرت ابوبکر نے طلیحہ کے مطالبات ماننے سے انکار کر دیا۔اس دفد نے جا کر اپنے ساتھیوں کو بتایا کہ مسلمانوں کی تعداد بہت کم ہے چلو ان پر حملہ کریں۔حضرت ابوبکرؓ نے ان سے مذاکرات کے بعد مدینہ کی اطراف میں پہرہ کے لئے چھوٹے چھوٹے دستے مقرر فرما دیئے اور مسلمانوں سے کہا کہ سارے ملک میں ارتداد اور بغاوت کی وباء پھیلی ہوئی ہے اور مرتدین کے وفد نے ہماری تھوڑی تعداد کا اندازہ کر لیا ہے۔اب کوئی پتہ نہیں کہ وہ رات ہی تم پر