اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 76 of 155

اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 76

76 لشکر کشی کر دی اور اپنے ہاں کے نہتے مسلمانوں کو بُری طرح قتل کرنا شروع کر دیا۔دوسرے قبائل نے بھی ایسا ہی کیا۔اس پر حضرت ابوبکر نے قسم کھائی کہ وہ ایک ایک مسلمان کے بدلہ ایک ایک باغی کو ماریں گے بلکہ زیادہ کو ماریں گے۔پھر آپ نے ایسا ہی کیا۔آپ نے خالد بن ولید کو پیغام بھیجا کہ تم ہر اس باغی کو جس نے کسی مسلمان کو قتل کیا پکڑتے ہی عبرت ناک طور پر قتل کر دو 66 مرتدین کی چھاؤنیاں "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات سے قبل حضرت عمرو بن العاص کو جیفر (عمان) کی طرف بھجوایا تھا۔وہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد واپس لوٹے تو باغیوں کے حالات معلوم کرنے کے لئے مسلمان ان کے گرد جمع ہو گئے۔انہوں نے بتایا کہ دبا سے لیکر مدینہ تک کے سارے راستہ میں مرتدین چھاؤنیاں ڈالے پڑے ہیں۔“ اسود عنسی کے حالات وه ارتداد و بغاوت کی ابتدا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے زمانہ میں اسود عنسی نے یمن کے علاقہ میں کی۔مذحج قبیلہ اس کے ساتھ مل گیا اور اس کی بغاوت کا فتنہ جنگل کی آگ کی طرح پھیلنے لگا۔اس کے ساتھ مل جانے والے باغیوں کی فوج میں پیادوں کے علاوہ سات سو گھڑ سوار تھے۔اس نے اسلامی حکومت کے عمال کو دھمکی دی کہ : اے غاصبو! ہمارا ملک ہمارے حوالے کر دو۔جو مال تم نے جمع کئے ہیں وہ بے شک لے لو مگر