اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 74
74 طئ اور اسد قبیلوں کے لوگ طلیحہ کے گرد جمع ہو گئے۔غطفان قبیلہ بھی مرتد ہو گیا ہوازن قبیلہ کے لوگوں نے زکوۃ دینے سے انکار کر دیا۔یمن اور یمامہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرر کردہ والیان اور عمال کو باغیوں نے نکال دیا۔حضرت ابوبکر نے (حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد) سفراء اور خط و کتابت کے ذریعہ بات چیت کر کے ان باغیوں کو سمجھانے کی کوشش کی اور اسامہ کی زیر نگرانی باہر گئے ہوئے لشکر کی واپسی کا انتظار کیا مگر باغیوں نے مدینہ پر حملہ کے لئے مدینہ کی طرف پیش قدمی شروع کر دی۔مدینہ کے قریب پہنچ کر الا برق اور ذی القصہ مقام پر پڑاؤ ڈالا اور حضرت ابوبکر کو پیغام بھیجا کہ ہمیں نماز بے شک پڑھوائیں مگر زکوۃ ادا کرنا معاف کر دیں۔مگر حضرت ابو بکر نے اس مطالبہ کو ماننے سے انکار فرما دیا۔اور آپ نے مدینہ کے مختلف کناروں پر حضرت علی، زبیر اور عبداللہ بن مسعودؓ کو پہرہ کے لئے مقرر فرمایا۔اہل مدینہ مسجد میں اکھٹے ہونے لگے۔باغیوں کے وفد نے واپس جا کر اپنے ساتھیوں کو بتایا کہ مدینہ میں موجود مسلمانوں کی تعداد بہت تھوڑی ہے۔اس پر باغیوں نے مدینہ کی اطراف پر حملہ کر دیا۔جس پر حضرت ابوبکر مسجد میں اکھٹے ہونے والے مسلمانوں کو لے کر دشمن کے مقابلہ کے لئے اونٹوں پر نکلے۔دشمن بھاگ نکلا مگر دوڑتے دوڑتے بھی اس نے مختلف ترکیبوں سے مسلمانوں کے اونٹوں کو بد کا دیا جس پر اونٹ واپس مدینہ کی طرف بے قابو ہوکر بھاگے۔مسلمانوں کا کوئی جانی نقصان نہ ہوا مگر دشمن نے مسلمانوں کو کمزور سمجھا اور اپنے باقی باغی ساتھیوں کو پیغام بھیجا کہ مسلمان کمزور ہیں آؤ حملہ کریں۔اس پر ابو بکر مسلمانوں کو لے کر فجر ہوتے