اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 75 of 155

اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 75

75 ہی دشمنوں کے سر پر پہنچ گئے اور ان سے جنگ کی۔سورج نکلنے سے قبل ہی دشمن پسپا ہو گیا۔واپس جا کر بنوز بیان اور عبس قبائل نے اپنے علاقہ کے نہتے مسلمانوں کو قتل کرنا شروع کر دیا جس پر ابوبکر نے قسم کھائی کہ وہ ایک ایک مسلمان کا بدلہ لے کر رہیں گئے۔تاریخ ابن خلدون از عبد الرحمن ابن خلدون - زیر عنوان "الخلافة الاسلامية۔دار ابن حزم، بیروت الطبعة الاولی ۲۰۰۳م - جلد اول صفحه ۸۶۱۸۶۰) " ۴۔تاریخ طبری میں مذکورہ حالات کا خلاصہ یہ ہے : حضور کی بیماری کی خبر ہوتے ہی یہ اطلاع بھی پہنچی کہ مسیلمہ نے یمامہ پر اور اسود عنسی نے یمن پر قبضہ کر لیا ہے۔طلیحہ نے بھی جلد ہی نبوت کا دعویٰ کر کے بغاوت کا علم بلند کیا اور فوج لے کر سمیراء مقام پر مسلمانوں سے لڑائی کے لئے نکلا۔اس کے پیچھے بہت سے عوام ہو گئے اور اس کا معاملہ خطرناک صورت اختیار کر گیا۔ادھر بنور بیعہ نے بھی بحرین کے علاقہ میں بغاوت اور ارتداد کا اعلان کیا اور کہا کہ ہم بادشاہت کو دوبارہ آل منذر میں واپس لائیں گے اور انہوں نے منذر بن نعمان بن منذر کو اپنا بادشاہ بنایا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گورنرز کی طرف سے جلد ہی یہ رپورٹس آئیں کہ ہر علاقہ میں خاص وعام نے بغاوت کر دی ہے اور باغی مسلمانوں پر طرح طرح کے مظالم ڈھا رہے ہیں۔حضرت ابوبکر نے بھی باغیوں کے ساتھ شروع میں بالکل اسی طرح بات چیت جاری رکھی جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفراء کے ذریعہ باغیوں سے مذاکرات فرماتے تھے۔مگر عبس اور ڈبیان قبائل نے مدینہ پر