اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 73
73 زندگی ہی میں نبوت کا روپ دھار لیا تھا۔“ یہ فقرہ توجہ کے لائق ہے۔کہتے ہیں! دیکھو جھوٹے نبیوں کے خلاف حضرت ابوبکر نے کیسی چڑھائی کی؟ مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ دیکھو جھوٹے نبیوں کے خلاف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کیسی چڑھائی کی؟ بعض اور نبوت کے دعویداروں کے علاوہ طلیحہ نے بھی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی میں نبوت کا دعویٰ کیا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قتل کا کوئی حکم نہیں دیا اور کسی بھی دعویدار نبوت کے خلاف فوج کشی نہیں کی جاتی تھی۔افسوس یہ بگڑے ہوئے علماء ظلم پر ظلم کرتے چلے جا رہے ہیں۔ذرا بھی خدا کا خوف نہیں کھاتے کہ اسلام پر کیسے گندے حملے کر رہے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر بھی حملہ کرنے سے نہیں چوکتے۔دو لیکن اس وقت اسکا فریب نہ چلا۔حضور علی کی وفات کے بعد سارا قبیلہ اس کے دام میں آ گیا۔اس نے نماز سے سجدہ موقوف کر دیا اس سے تکلیف ہوتی ہے زکوۃ بھی معاف کر دی۔اس لئے منکرین زکوۃ اس کے حلقہ بگوش ہو گئے۔طلیحہ نے ایک بہت بڑا لشکر مرتب کر کے مدینہ بھیجا“ (لشکر بھی بھیجا ہے جب تک لشکر نہیں بھیجا اس وقت تک حضرت ابوبکر کو خیال بھی نہیں آیا کہ جھوٹے نبی کی سزا یہ ہے کہ اس کے خلاف قتال کرو) حضرت صدیق لشکر کے مقابلہ کے لئے آئے۔حملہ آور بھاگ نکلے“۔(اسلامی دستور حیات از غلام احمد حریری۔لاہور۔محمود ریاض پرنٹرز۔ناشر ضیاء الحق قریشی - ۱۹۸۶ء صفحہ ۳۳۵ - ۳۳۶) ۳۔تاریخ ابن خلدون میں مذکورہ حالات کا خلاصہ یوں ہے : قریش اور ثقیف قبیلہ کے علاوہ جملہ اہل عرب کے ارتداد کی خبریں مدینہ پہنچیں۔مسیلمہ کی بغاوت کا مسئلہ نازک صورتحال اختیار کر گیا۔اسی طرح