اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 54 of 155

اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 54

54 رسولِ خدا کا رئیس المرتدین سے حسن سلوک ایک عجیب واقعہ قرآن کریم میں ملتا ہے کہ رئیس المنافقین جس کا نام لے کر خدا تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا چکا تھا کہ یہ منافق ہے اور آپ کے دل کی رحمت پر نظر کرتے ہوئے جانتا تھا کہ آپ اسکی بخشش کے لئے کوشش کریں گے آپ کو حکما روکا کہ اسکی نماز جنازہ نہیں پڑھنی وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّلَا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ ( التوبة: (۸۴) وہ منافق زندہ چلتا پھرتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق مسلسل گستاخیاں کرتا چلا جاتا ہے اتنی شدید گستاخی کہ قرآن فرماتا ہے کہ اس نے ایک موقع پر کہا کہ : يَقُولُونَ لَبِنْ رَّجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ (المنافقون: ٩) کہ جب ہم مدینے لوٹیں گے تو سب سے معزز انسان ( جو اپنے زعم میں خود عبداللہ بن ابی بن سلول تھا) (نعوذ بالله من ذالك) سب سے ذلیل انسان کو ( یعنی حضرت محمد رسول اللہ کو) مدینہ سے نکال دے گا۔یہاں خدا نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نہیں لیا۔اس میں حکمت یہ تھی کہ صحابہ اس آیت کو الٹا بھی سکتے تھے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک صحابی نے اس واقعہ کا ذکر کیا تو کہا: یا رسول اللہ ! وہ بیچ ہی تو کہتا ہے کہ دنیا کا سب سے معزز انسان یعنی آپ دنیا کے سب سے ذلیل انسان