اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 53
53 وہ مرتد ہو چکے ہیں بلکہ تو بہ کا بھی کوئی امکان نہیں رہا ان کو قتل کرنے کا حکم کیوں نہیں دیا گیا آیا ان میں سے کسی ایک کو بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قتل کیوں نہ کروایا ؟ ان کی تعیین و تشخیص کے متعلق قرآن ساتھ ہی آگے فرماتا ہے کہ وہ معین لوگ ہیں جن کا تمہیں علم ہے اور اس علم کے باوجود : ” جب تم ان کو بلاتے ہو کہ تو بہ کریں تو اللہ کا رسول بھی ان کے لئے بخشش طلب کرے گا یہ نہیں فرمایا کہ تو بہ کرتے ہی اللہ کا رسول ان کو قتل کر دے گا کیونکہ خدا نے مرتد کی سزا یہی رکھی ہے کہ تو بہ کے باوجود قتل ہوگا۔نہیں بلکہ فرمایا: باز آ جاؤ، استغفار کرو، تو بہ کرو۔اگر تو بہ کرو گے تو خدا کا رسول بھی تمہارے لئے بخشش طلب کرے گا۔اس سے زیادہ اور کیا ہوسکتا ہے؟) تو وہ تحقیر اور طعن و تشنیع کے طور پر سر مٹکاتے ہیں اور تو دیکھے گا کہ وہ رکتے ہیں اور دوسروں کو بھی خدا کی راہ سے روکتے ہیں۔مسلسل ایسا کرتے چلے جا رہے ہیں اور وہ بڑے سخت تکبر کرنے والے لوگ ہیں“ اب بتائیے کہ ان آیات کے بعد کہ جن میں خدا تعالیٰ نے جو دلوں کا راز جاننے والا ہے کسی کے کفر کی گواہی دی اور ان کے متعلق آگاہ فرما دیا کہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ ان کو پہچاننے لگے اور ان کو معین طور پر تو بہ کی دعوت دینے لگے اس کے باوجود بھی انہوں نے خدا کے رستہ سے روکا اور تکبر کیا اور اپنے جرم پر اصرار کیا اس کے باوجود خدا تعالیٰ ان کے قتل کا حکم نہیں دیتا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے کسی ایک کو بھی قتل نہیں کرواتے۔