اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 55 of 155

اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 55

55 یعنی اس منافقین کے سردار کو مدینہ سے نکال دے گا۔بد بخت منافقوں کا سردار اس انتہائی گستاخی کے باوجود زندہ رکھا گیا۔وہ مسلسل مدینے کی جگہوں میں دندناتا پھرتا رہا اور لوگوں کو مرتد کرنے کی کوشش کرتا رہا۔اپنی ایک پارٹی بنائی۔عین جنگ کے دوران دھوکہ دے کر وہ پیٹھ پھیر کر بھاگتے رہے۔ہر قسم کی ظالمانہ کارروائیاں کیں۔ہر قسم کی گستاخیاں کیں۔اس کے باوجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے ساتھ یہ سلوک تھا کہ خدا نے اس دل پر نظر رکھ کر متنبہ فرمایا کہ اے محمد ! ( ع ) تو نے اسکی نماز جنازہ نہیں پڑھنی۔تو نے اس کے لئے استغفار نہیں کرنا۔اگر تو اس کے لئے ستر بار بھی استغفار کرے گا تو تب بھی میں اس کو نہیں بخشوں گا۔(التوبۃ: ۸۰ تا ۸۵) نبی رحمت کا پاس کرو اس سے بڑا ، اس سے واضح ، اس سے زیادہ یقینی مرتد لا کے تو دکھاؤ۔اور اس سے زیادہ عظیم الشان سلوک تو دکھاؤ جو کسی نے کسی مرتد کے ساتھ کیا ہو۔اب تم ان دعووں کی جرات کرتے ہو اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم الشان کردار کو قرآن کے بیان کے منافی اور مخالف داغدار کرنے کی کوشش کرتے ہو۔شرم سے تمہیں موت کیوں نہیں آ جاتی کہ دنیا کے سب سے زیادہ رحیم و کریم آقا کے خلاف ایسے گندے الزامات لگاتے ہو اور ساری دنیا میں اس کو اور اس کے دین کو بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہو۔