اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 52 of 155

اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 52

52 ہے کیونکہ اسی نے تجھے بھیجا ہے۔اس سے بہتر کون تجھے جان سکتا ہے؟ اس کے باوجود اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافق جھوٹے ہیں۔بات بظاہر کچی کر رہے ہیں لیکن بول جھوٹ رہے ہیں۔کیونکہ ان کے دل میں وہ بات نہیں جسکا وہ منہ سے اقرار کر رہے ہیں۔اس مضمون پر یہ پہلا واقعہ ہمارے علم میں آیا ہے جس میں اگر چہ انسانوں کو دسترس نہیں تھی مگر خدا نے جو دلوں کے راز سے واقف ہے خود گواہی دی کہ بعض لوگ منہ سے اقرار کرنے والے ہیں۔لیکن ہم گواہی دے رہے ہیں کہ وہ جھوٹ بول رہے ہیں اور وہ مرتد ہو چکے ہیں۔ان کا دین سے کوئی تعلق نہیں رہا۔پھر فرمایا ! انہوں نے اپنے عہدوں یا اپنے ایمان کو ( دونوں معنی ہو سکتے ہیں) اپنے لئے جُنَّة (ڈھال) بنالیا ہے اور پھر اللہ کے راستہ سے لوگوں کو روک رہے ہیں۔بہت ہی برا کرتے ہیں جو یہ کرتے ہیں۔اس لئے یہ گندے سے گندے ہوتے چلے جا رہے ہیں کہ وہ ایک دفعہ ایمان لائے تھے پھر اس کے بعد انہوں نے انکار کر دیا یعنی کھلے کھلے مرتد ہو چکے ہیں۔اب اللہ نے ان کے دلوں پر مہر بھی لگا دی ہے۔اب کبھی ایمان لا ہی نہیں سکتے۔ایسے پکے مرتد ہو چکے ہیں کہ ان کے دلوں کے لئے تو بہ کے سارے دروازے بند ہو چکے ہیں۔اور ان کو ابھی تک سمجھ نہیں آ رہی کہ ہمارے ساتھ ہو کیا رہا ہے۔رسول اللہ اور صحابہ مرتدین کو جانتے تھے وہ لوگ کون تھے؟ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے غلاموں کو ان کی معین طور پر خبر تھی کہ نہیں ؟ اگر خبر تھی تو اس قطعی اور پکی گواہی کے باوجود کہ نہ صرف