اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 48
48 گنجائش موجود نہیں۔انہوں نے جو استدلال کیا ہے اس کی بنیاد انہوں نے آیت کے درج ذیل تین ٹکڑوں پر رکھی ہے۔(۱): فَسَوْفَ يَأْتِي اللهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَة (۲): اَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى الْكُفِرِينَ (۳): يُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللهِ وَلَا يَخَافُونَ لَوْمَةَ لَآبِ وہ کہتے ہیں کہ مراد یہ ہے کہ جو کوئی مرتد ہو جائے گا اس مرتد سے لڑنے کے لئے اللہ ایک قوم لے آئیگا جس سے اللہ محبت کریگا اور وہ قوم اللہ سے محبت کرے گی۔وہ ان مرتدین سے جہاد کریں گے اور ان کو تلوار سے قتل کر دیں گے کیونکہ وہ مومنوں کے لئے تو بہت ہی نرم ہوں گے اور کافروں کے لئے بہت سخت ہوں گے۔گویا ان کے نزدیک فَسَوْفَ يَأْتِي اللهُ بِقَوْمٍ میں ایک بعد میں آنے والی قوم کا ذکر ہے۔اگر مرتد کی سزا قتل ہوتی تو کیا نعوذ بالله من ذالك آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ان غلاموں میں جن میں اس ارتداد کی خبر دی جا رہی ہے، کوئی اللہ سے محبت کرنے والا ایسا نہیں تھا جس سے اللہ بھی محبت کرتا تھا؟ کوئی ایسا نہیں تھا جو دین کے لئے ایسی غیرت رکھتا ہو اور خدا کے لئے ایسی اطاعت کا جذبہ اپنے اندر پاتا ہو کہ ان مرتد ہونے والوں سے لڑائی کی ہمت کر سکے؟ کیسی ظالمانہ دلیل دی جا رہی ہے اور نہایت شدید حملہ کیا جا رہا ہے حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے غلاموں کے ایمان پر! گویا اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ اگر تم میں سے اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) اور تمہارے غلاموں میں سے جن کی تربیت تو نے خود کی ہے، جنکا تزکیہ تو نے کیا ہے، کوئی مرتد ہو جائے گا تو تم نے کچھ نہیں کرنا، فکر نہ کرنا، ہم کوئی ایسی قوم