اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 47
47 ۳۔وہ چھپ کر نہیں بلکہ بر ملاحملہ آور ہو کر لوٹ مارکریں“ ( تفسیر ضیاء القرآن از پیرمحمد کرم شاہ۔لاہور۔ضیاء القرآن پبلیکیشنز، جلد اول۔سورة المائدة - صفحہ ۴۶۴ یہ ہے ان کے علماء کی اپنی تشریح جو عین عربی قواعد اور قرآنی محاورہ اور سیاق وسباق کے مطابق ہے۔اس آیت سے قتل مرتد کا استنباط کرنا ایک ایسے آدمی کے لئے ناممکن ہے جو سوجھ بوجھ بھی رکھتا ہو۔جب تک کسی کے دماغ میں کوئی خلل نہ پیدا ہو جائے اس وقت تک وہ اس آیت میں خلل پیدا کر ہی نہیں سکتا۔علماء کی چوتھی دلیل اب چوتھی دلیل ملاحظہ فرمائیے۔یہ بھی شرعی عدالت کی ایک مرغوب دلیل ہے۔اسی شرعی عدالت کی جس کے خلاف اس کے ایک بج پیر محمد کرم شاہ صاحب اپنے خیالات کا اظہار کر چکے ہیں۔اس کا حوالہ میں پہلے دے چکا ہوں۔یہ دلیل درج ذیل ہے : يَا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوْا مَنْ يَرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِينِهِ فَسَوْفَ يَأْتِي اللَّهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّوْنَةَ أَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى الْكَفِرِينَ يُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللهِ وَلَا يَخَافُونَ لَوْمَةَ لَا بِمِ ذلِكَ فَضْلُ اللهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَّشَاءُ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ (المآئدة: ۵۵) یہ وہی آیت ہے جسکی میں نے اس تقریر کے آغاز میں تلاوت کی تھی۔اس سے بھی قتل مرتد کا استنباط کرنا کلیتًا بعید از عقل ہے اور اس کی کوئی دور کی بھی یہاں