اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 45 of 155

اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 45

45 بلکہ یہ صورت جبھی ہوتی ہے جبکہ کوئی طاقتور جماعت راہزنی اور قتل وغارت گری پر کھڑی ہو جائے۔اس لئے حضرات فقہاء نے ( یعنی مفتی صاحب اس ذکر میں مزید وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ وہ اس میں تنہا نہیں بلکہ ان کے ساتھ فقہاء کی ایک جماعت ہے جس نے) اس سزا کا مستحق صرف اس جماعت یا فرد کو قرار دیا ہے جو مسلح ہو کر عوام پر ڈا کے ڈالے اور حکومت کے قانون کو قوت کے ساتھ توڑنا چاہے۔جس کو دوسرے لفظوں میں ڈا کو یا باغی کہا جاسکتا ہے۔عام انفرادی جرائم کرنے والے چور، گرہ کٹ وغیرہ اس میں داخل نہیں ہیں۔“ وو دوسری بات یہاں یہ قابل غور ہے کہ اس آیت میں محاربہ کو اللہ اور رسول ﷺ کی طرف منسوب کیا ہے حالانکہ ڈاکو یا بغاوت کرنے والے جو مقابلہ یا محاربہ کرتے ہیں وہ انسانوں کے ساتھ ہوتا ہے۔وجہ یہ ہے کہ کوئی طاقتور جماعت جب طاقت کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے قانون کو توڑنا چاہے تو اگر چہ ظاہر میں اس کا مقابلہ عوام اور انسانوں کے ساتھ ہوتا ہے لیکن درحقیقت اسکی جنگ حکومت کے ساتھ ہے اور اسلامی حکومت میں جب قانون اللہ اور رسول ﷺ کا نافذ ہو تو یہ محاربہ بھی اللہ و رسول ہی کے مقابلہ میں کہا جائیگا۔( مفتی محمد شفیع سابق مفتی اعظم پاکستان - تفسیر معارف القرآن۔کراچی۔ادارۃ المعارف۔جلد سوم۔سورۃ المائدہ: ۱۲۰،۱۱۹)