اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 46 of 155

اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 46

46 پاکستانی شرعی عدالت کے جج کی رائے پاکستان کی مشہور و معروف وفاقی شرعی عدالت کے جسٹس پیر محمد کرم شاہ صاحب اپنی کتاب ”ضیاء القرآن“ میں اس موضوع پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں: مملکت اسلامیہ کے گوشہ گوشہ میں امن قائم کرنے ، راستوں کو محفوظ بنانے اور فتنہ و فساد کی جڑ کاٹنے کا حکم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول معظم نے دیا ہے۔جو اس حکم کی خلاف ورزی کر کے قتل و غارت اور لوٹ مار کا بازار گرم کرتا ہے وہ گویا اللہ اور اس کے رسول کے خلاف علم بغاوت بلند کر رہا ہے، اس لئے قرآن کریم نے مملکت اسلامیہ کے کسی باشندے پر ، خواہ وہ مسلمان ہو یا زمی، دست درازی کرنے کو اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ کرنے سے تعبیر کیا ہے“۔پھر فرماتے ہیں: واؤ تفسیر یہ ہے۔پہلے جملہ میں جس محاربہ کا ذکر ہے اس کی وضاحت فرما دی۔محاربین جن کی سزائیں یہاں بیان کی گئی ہیں وہ کون ہیں؟ ان کے متعلق فقہاء کرام نے کہا کہ جن میں یہ تین شرطیں پائی جائیں وہ محارب ہیں: ا۔وہ بندوق، تلوار، نیزہ وغیرہ ہتھیاروں سے مسلح ہوں۔۲۔آبادی سے باہر راستہ یا صحراء میں وہ راہزنی اور ڈاکے کا ارتکاب کریں۔لیکن امام شافعی ، اوزاعی اور لیٹ رحمہم اللہ تعالی کے نزدیک شہر میں ڈاکہ ڈالنے والے بھی محارب کہلائیں گے اور انہی سزاؤں کے مستحق ہوں گے۔