اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 44 of 155

اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 44

44 اس آیت میں کسی ایک لفظ کا ترجمہ بھی ارتدار نہیں کیا جاسکتا۔اشار تایا کنایتاً بھی ارتداد کا مضمون یہاں کہیں بیان نہیں ہوا۔اور محاربہ کو کھینچ تان کر ارتداد قرار دینا قرآن سے بھی اور عربی زبان سے بھی ظلم سے مترادف ہے۔تعجب ہے کہ علماء کہلاتے ہوئے بھی یہ کس طرح ایسی باتوں کی جرات کرتے ہیں؟ بر صغیر کے ایک عظیم مفسر کی رائے چنانچہ آجکل کے علماء میں سے ایک مفتی اور عالم کہ جن کا بہت بڑا اثر ہندوستان میں ہے اور بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں یعنی مولانا مفتی محمد شفیع صاحب وہ فرماتے ہیں۔یہاں پہلی بات قابل غور یہ ہے کہ اللہ و رسول کے ساتھ محاربہ اور زمین میں فساد کا کیا مطلب ہے؟ اور کون لوگ اس کے مصداق ہیں؟ لفظ ” محاربہ حرب سے ماخوذ ہے اور اس کے اصلی معنی سلب کرنے اور چھین لینے کے ہیں اور محاورات میں یہ لفظ ”سلم“ کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے جس کے معنی امن اور سلامتی کے ہیں۔تو معلوم ہوا کہ حرب کا مفہوم بدامنی پھیلانا ہے اور ظاہر ہے کہ اکا دُکا چوری یا قتل و غارت گری سے امن عامہ سلب نہیں ہوتا“ یہ نہایت ہی معقول دلیل پیش کر رہے ہیں کیونکہ یہ خطرہ تھا کہ فقہاء اس سے یہ نتیجہ نکالیں گے کہ ہر شخص جو کبھی ڈاکہ ڈالے یا ہر شخص جو کبھی چوری کرے اس کے لئے قرآن ایسی سخت سزائیں تجویز کرتا ہے کہ اگر اس کے جرم میں شدت ہو تو بے شک اسے اذیت ناک سزائیں دو جو عام سزاؤں سے ہٹ کر ہوں۔فرماتے ہیں:۔