اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 32 of 155

اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 32

32 قرآن اور تورات کے بیانات میں تضاد مولوی عثمانی صاحب کو زیادہ سے زیادہ ہم یہ حق دے سکتے ہیں کہ انہوں نے بائیبل سے اس واقعہ کی تفصیل معلوم کی ہو گی۔لیکن اگر بائیل سے تفصیل معلوم کرتے تو پھر بھی یہ کہانی نہ بنتی۔کیونکہ بائیبل تو اس بارہ میں قرآن سے بڑا واضح اور شدید اختلاف کر رہی ہے۔اس اختلاف کے بعد بائیبل کی روایت مسلمانوں کے لئے قابل اعتماد نہیں رہتی کیونکہ بائیل میں تو یہ لکھا ہے کہ گناہ سب نے کیا تھا، لیکن وہ گناہ کروانے والا سامری نہیں تھا بلکہ موسیقی کا بھائی ہارون تھا۔ہارون نے خود وہ شرک کا طریق ایجاد کیا اور حضرت موسی کو یہ جواب دیا کہ میں تو مجبور ہو گیا تھا ساری قوم مجھ پر غالب آ گئی تھی اور ان میں کوئی نیک لوگ رہے ہی نہیں تھے۔مجھے یہ ترکیب سوجھی کہ میں نے ان کے زیور ا کٹھے کئے۔ان کو آگ میں جھونک دیا اور اس آگ سے یہ بچھڑا نکل آیا۔اس پر بائیبل کے بیان کے مطابق حضرت موسی نے یہ انصاف جاری کیا، نعوذ بالله من ذلك، کہ بنی لاوی کو جو ان کا اپنا خاندان تھا بلایا کہ اگر تم میرے ساتھ وفادار ہو تو ادھر آ جاؤ۔باوجود اس کے کہ وہ اس جرم کے بانی مبانی تھے، ان کو بلایا اور ان کو حکم دیا کہ باقیوں کو قتل کر دو۔اس طرح تین ہزار آدمی اس دن مارے گئے۔( عہد نامہ قدیم ، خروج باب ۳۲۔آیات ۲ - ۲۸) یہ ہے قتل مرتد کی عثمانی دلیل جسکو قرآنی دلیل کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔یہود کی تو بہ قبول ہوئی جہاں تک قرآن کا تعلق ہے قرآن اس بات کو یوں کھلا کھلا رد کر رہا ہے کہ کوئی انسان جس میں تقویٰ کا کوئی شائبہ بھی ہو اس بات کے بعد مرتد کی سزا قتل کا جواز