اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 33
33 یہاں سے نہیں نکال سکتا۔کیونکہ قرآن کریم کے نزدیک اس واقعہ اور اس ظلم کا بانی مبانی سامری تھا۔مگر سامری کے قتل کا بھی حکم نہیں دیا گیا جولیڈ رتھا، اس کو یہ سزا ملی کہ : فَإِنَّ لَكَ فِي الْحَيَوةِ أَنْ تَقُولَ لَا مِسَاسَ (طه: ۹۸) ساری عمر تجھے لَا مِسَاس “ کہنا ہے۔تیرا بائیکاٹ ہوگا یا تجھے ایسی بیماری پڑے گی جس سے تیرا بدن مکروہ ہو جائے گا۔تو ہمیشہ کہتا رہیگا کہ میرے پاس نہ آؤ، مجھے ہاتھ نہ لگاؤ مجھ سے دور رہو۔میں پلید انسان ہوں قتل کا حکم تو کہیں نہیں دیا گیا۔اور پھر مسلسل ہر جگہ جہاں اس واقعہ کا ذکر ہے قرآن کریم کھول کھول کر بیان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تو بہ کرنے والوں کی تو بہ کو قبول فرمالیا۔چنانچہ فرماتا ہے: فَتُوبُوا إِلَى بَارِ بِكُمْ فَاقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ عِنْدَ بَارِ بِكُمْ ۖ فَتَابَ عَلَيْكُمْ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُه (البقرة: ۵۵) کہ اپنے رب کی طرف تو بہ کے ساتھ جھکو، رجوع کرو، اور اپنے نفسوں کو قتل کرو۔یہ طریق تمہارے رب کے نزدیک بہتر ہے۔پھر فرمایا: فَتَابَ عَلَيْكُمْ نہ صرف یہ کہ تم تو بہ کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف جھکے بلکہ خدا نے بھی تمہاری تو بہ کو قبول فرمایا: إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔دیکھو! کیسا پیارا کیسا بار بار تو به قبول کرنے والا خدا ہے۔اور کتنا رحم کرنے والا خدا ہے۔کیا یہ ان کے دل کی آواز تھی جن کے دل تو بہ کے باوجود یہ دیکھ رہے تھے کہ ان کی گردن زدنی کا حکم دیدیا گیا ہے۔قرآن کریم پر کتنا ظالمانہ الزام ہے؟ قرآن کریم کے منشاء سے کیسا واضح اور کھلا کھلا انحراف ہے؟ اور پھر کہتے ہیں کہ ہم قرآن کریم سے قتل مرتد کے جواز میں دلائل لے کر آ رہے ہیں اور جس میں ذراسی