اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 22
تیسری آیت 22 پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ سکیم آف تھنگز (Scheme of things) یہ نہیں ہے۔خدا نے دین کا نقشہ بناتے وقت اس میں جبر کو کبھی داخل ہی نہیں ہونے دیا۔کائنات کی جو تصویر اس کامل مصور نے کھینچی تھی اس میں تو دین اور جبر کا کوئی علاقہ اس نے قائم ہی نہیں ہونے دیا۔فرمایا۔: وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَا مَنَ مَنْ فِي الْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا أَفَأَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتَّى يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (يونس: ١٠٠) کہ دیکھو! اگر اللہ چاہتا کہ مومنوں کی تعداد بڑھ جائے ،سارے لوگ ایمان لے آئیں تو اس کا چاہنا ہی کافی تھا اور تمام کے تمام بنی نوع انسان فوراً خدا کی چاہت کے ساتھ ہی ایمان لے آتے۔جب اللہ نے ایسا نہیں چاہا ” أَفَأَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتَّى يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ، تو اے محمد ! کیا تو لوگوں کو مجبور کرے گا کہ وہ ایمان لے آئیں۔دواہم اعلان اس میں دو اعلان ہیں۔ایک یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمیشہ کے لئے جبر کے الزام کی نفی فرما دی گئی کیونکہ محمد مصطفی ﷺ کا چاہنا تو وہی تھا جو خدا کا چاہنا تھا۔آپ کا کلام خدا کا کلام تھا۔آپ خدا کی منشاء کے تابع بات کرتے تھے۔قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (الانعام: ۱۶۳) یہ ایک ہی نبی ہے جسے خدا نے بنی نوع انسان کے سامنے یہ اعلان کرنے کی اجازت دی کہ میرا اپنا تو کچھ بھی باقی نہیں رہا۔میری تمام عبادتیں، میری ساری قربانیاں،