اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 21 of 155

اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 21

21 مجبور کرے۔فرمایا، چونکہ حق ظاہر ہو گیا ہے اور دین میں جبر نہیں ہے، تم تو جبر نہیں کرو گے کیونکہ خدا کا تمہیں حکم مل چکا ہے کہ دین میں کوئی جبر نہیں ہے، لیکن غیر کا جبر بھی نہیں چل سکتا، کیونکہ تم نے حق کو حق سمجھ کے قبول کیا ہے، ایک مضبوط کڑے پر ہاتھ ڈال بیٹھے ہو۔پس جو طاغوتی طاقتوں کا مقابلہ کرے گا اور ان کے دین میں لوٹنے سے انکار کر دے گا اور اللہ کے ایمان پر قائم رہے گا، اس نے گویا ایک مضبوط کڑے پر ہاتھ ڈال دیا۔لَا انفِصَامَ لَهَا اب یہ تعلق ٹوٹنے کا نہیں۔یعنی جبر تمہارے خلاف استعمال ہو گا، لیکن ہم جانتے ہیں کہ تم ایسے روشن مقام پر فائز ہو کہ کسی طرح بھی اندھیروں کی طرف لوٹ جانے والے نہیں۔دوسری آیت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَاَطِيْعُوا اللَّهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُولَ وَاحْذَرُوا فَإِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَاعْلَمُوا أَنَّمَا عَلى رَسُولِنَا الْبَلغَ الْمُبِينُ (المائدة : ٩٣) کہ تم اللہ کی بھی اطاعت کرو اور رسول کی بھی اطاعت کرو، اور ہوشیار رہو۔اگر اس تنبیہ کے باوجود بھی تم پھر گئے تو جان لو کہ ہمارے رسول کے ذمہ تو صرف کھول کر بات پہنچا دینا ہے ( قتل کرنا نہیں) اگر مرتد کی سزا قتل ہوتی تو اس کا تو فوری جواب یہ ہونا چاہئے تھا کہ ہم نے خوب بات کھول دی ہے۔اتنی بات کھولنے کے باوجوداگر تم اس دین سے پھر گئے تو یا درکھوتلوارتمہارا جواب ہے اور تمہاری گردن کاٹی جائے گی۔